ٹرمپ انتظامیہ کا ‘ٹیرف ڈیویڈنڈ’: کیا امریکیوں کو 2,000 ڈالر کے چیک ملیں گے؟

یہ فائدہ براہ راست چیک کے بجائے ٹیکس کی شرح میں کمی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے

Editor News

واشنگٹن( ویب ڈیسک): سال 2026 کے آغاز پر امریکیوں کے لیے تنخواہوں میں معمولی اضافے اور بڑے ٹیکس ریفنڈز کی توقع ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وعدہ کردہ “ٹیرف ریبیٹ” (Tariff Rebate) چیکس کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔

نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ (Kevin Hassett) نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ زیادہ تر امریکیوں کو 2,000 ڈالر کا ریبیٹ چیک بھیجنے کی قانون سازی کی حمایت کریں گے۔ یہ رقم ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ادا کی جا سکتی ہے۔

ہیسٹ نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ کانگریس کو کرنا ہوگا کہ یہ رقم کیسے اور کب خرچ کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ “امیروں کے علاوہ ہر کسی کو یہ چیک ملے گا” اور یہ عمل 2026 میں کسی وقت شروع ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر سے بھی اس تجویز پر تنقید سامنے آ رہی ہے:
انہوں نے مالیاتی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس بڑے اخراج کی استطاعت نہیں رکھتا۔

انہوں نے ایک متبادل بل پیش کیا ہے جس کے تحت ہر بالغ شہری کو 600 ڈالر اور بچوں کے لیے بھی اتنی ہی رقم دی جائے گی۔

کچھ حکومتی اراکین براہ راست چیک بھیجنے کے بجائے ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دے رہے ہیں:

نمائندہ ٹم برچٹ (Tim Burchett) نے ‘ٹرمپ ٹیرف ریبیٹ ایکٹ’ پیش کیا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان کے لیے “اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن” (Standard Deduction) میں 2,000 سے 4,000 ڈالر تک کا اضافہ کیا جائے گا، جس سے لوگوں کو کم ٹیکس دینا پڑے گا۔

ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ یہ فائدہ براہ راست چیک کے بجائے ٹیکس کی شرح میں کمی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *