تحریر: شمائلہ
واشنگٹن: امریکی معیشت نے سال 2025 کی تیسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران توقعات سے زیادہ تیزی دکھائی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، صارفین کی خریداری میں اضافے اور برآمدات میں بہتری کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی معیشت 4.3 فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کر رہی ہے۔
ماہرینِ معاشیات نے اس سہ ماہی میں 3.2 فیصد ترقی کی پیش گوئی کی تھی، تاہم 4.3 فیصد کی شرح گزشتہ دو سالوں میں سب سے زیادہ مضبوط نمو ہے۔
مہنگائی اور ملازمتوں کی مارکیٹ میں سست روی کے باوجود صارفین کے اخراجات میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، خاص طور پر صحت کی سہولیات پر زیادہ خرچ کیا گیا۔
ملکی برآمدات میں 7.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ درآمدات میں کمی دیکھی گئی ہے۔دفاعی شعبے میں حکومتی اخراجات بڑھنے سے بھی معیشت کو سہارا ملا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اعداد و شمار کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرف (Tariffs) کی کامیابی قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے معیشت “سنہرے دور” کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بینک آف امریکہ کے سینیئر ماہرِ معاشیات ‘آدتیہ بھوے’ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی معیشت کو “انتہائی لچکدار” قرار دیا اور کہا کہ اس نے تمام منفی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
تاہم، کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے (جو کہ 2.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے) کی وجہ سے متوسط اور غریب طبقے کے لیے اخراجات برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
حالیہ حکومتی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ڈیٹا کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، اور خدشہ ہے کہ چوتھی سہ ماہی میں ترقی کی رفتار کچھ سست ہو سکتی ہے۔
