نیویارک(ویب ڈیسک): نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے پیر کے روز نیویارک شہر کو شدید مالیاتی بحران سے نکالنے کے لیے دو سالوں کے دوران 1.5 بلین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان میئر زہران ممدانی کے اس ابتدائی بجٹ سے محض ایک دن پہلے سامنے آیا ہے جس میں شہر کو درپیش اربوں ڈالر کے خسارے کا حل پیش کیا جانا ہے۔
میئر زہران ممدانی نے ابتدائی طور پر شہر کے بجٹ میں 12 بلین ڈالر کے بڑے خسارے کا تخمینہ لگایا تھا، جسے حال ہی میں بہتر کر کے 7 بلین ڈالر بتایا گیا ہے۔ ریاست کی جانب سے ملنے والی اس ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم کو درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا
نوجوانوں کے پروگرام (Youth Programming)۔
عوامی صحت (Public Health)۔
سیلز ٹیکس کی وصولیاں اور دیگر ضروری خدمات۔
گورنر ہوکل کا کہنا ہے کہ “ایک مضبوط نیویارک شہر کا مطلب ایک مضبوط ریاست ہے۔” تاہم، میئر ممدانی اس امداد کو کافی نہیں سمجھتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امیر نیویارکرز اور بڑی کارپوریشنز پر ٹیکس بڑھایا جائے تاکہ مستقل حل نکل سکے، لیکن گورنر ہوکل نے ٹیکسوں میں اضافے کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
میئر ممدانی نے البانی (ریاستی دارالحکومت) اور نیویارک شہر کے مالیاتی تعلقات کی ازسرِ نو تشکیل پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر پوری ریاست کا “اقتصادی انجن” ہے، لیکن اسے اس کے بدلے میں ٹیکسوں کا منصفانہ حصہ نہیں مل رہا۔
