سوئٹزرلینڈ(ویب ڈیسک): سوئس الپس میں نئے سال کی تقریبات ایک ہولناک سانحے میں تبدیل ہو گئیں، جہاں ایک بار میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک جبکہ 100 کے قریب افراد زخمی ہو گئے، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے جمعرات کو اس سانحے کی تصدیق کی۔
یہ آگ سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکی ریزورٹ علاقے کرانس-مونٹانا (Crans-Montana) میں واقع بار “لے کونسٹیلشن” میں مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 1:30 بجے اس وقت بھڑکی جب نئے سال کی تقریب جاری تھی۔
علاقائی حکومت کے سربراہ میتھیاس رینارڈ کاکہنا ہےکہ”یہ شام خوشی اور یکجہتی کا لمحہ ہونی چاہیے تھی، مگر یہ ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گئی۔”
ابتدائی پریس کانفرنس میں ویلیس کینٹن پولیس کے کمانڈر فریڈرک گزلر نے بتایا کہ “درجنوں افراد” اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ متاثرین کی شناخت اور ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کا عمل جاری ہے، جبکہ پوری کمیونٹی صدمے سے دوچار ہے۔
حکام کے مطابق، ریسکیو ہیلی کاپٹرز اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں۔ زخمیوں میں مختلف ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کاکہناہےکہ رانسیسی نشریاتی ادارے BFMTV سے بات کرتے ہوئے دو خواتین نے بتایا کہ وہ بار کے اندر موجود تھیں جب انہوں نے ایک مرد بارٹینڈر کو دیکھا جو ایک خاتون بارٹینڈر کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھا۔ خاتون کے ہاتھ میں بوتل کے اندر جلتی ہوئی موم بتی تھی، جس سے لکڑی کی چھت میں آگ لگ گئی۔ آگ نے تیزی سے پورے بار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چھت گر گئی۔
ایک خاتون نے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد تہہ خانے میں واقع نائٹ کلب سے لوگ تنگ سیڑھیوں اور دروازے سے نکلنے کی کوشش میں ایک دوسرے پر گر پڑے، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔
ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ لوگ کھڑکیاں توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، کئی شدید زخمی تھے، جبکہ خوف زدہ والدین اپنی گاڑیوں میں موقع پر پہنچ رہے تھے تاکہ اپنے بچوں کا حال معلوم کر سکیں۔ انہوں نے اس منظر کو “ایک ہارر فلم” سے تشبیہ دی۔
پیرس سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ ایکسل کلیویئر، جو اس حادثے میں زندہ بچ گئے، نے کہا کہ بار کے اندر “مکمل افراتفری” تھی۔ ان کے ایک دوست کی موت ہو گئی جبکہ دو یا تین دوست لاپتہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے آگ لگتے نہیں دیکھی، لیکن ویٹریسز کو شیمپین کی بوتلوں کے ساتھ آتے دیکھا جن پر آتش بازی جیسے اسپارکلرز لگے ہوئے تھے۔ کلیویئر کے مطابق، انہیں دم گھٹنے کا احساس ہوا، وہ پہلے ایک میز کے پیچھے چھپے، پھر اوپر جا کر ایک میز کی مدد سے پلیکسی گلاس کی کھڑکی توڑی اور باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
ریجنل حکومت کے سربراہ رینارڈ کے مطابق زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ قریبی اسپتال کے آئی سی یو اور آپریشن تھیٹر فوری طور پر بھر گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے دوران ممکنہ طور پر آتش گیر گیسز خارج ہوئیں، جس کے بعد شدید دھماکہ خیز کیفیت پیدا ہوئی، جسے فائر فائٹرز کی اصطلاح میں فلیش اوور یا بیک ڈرافٹ کہا جاتا ہے۔
ویلیس کینٹن کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ آگ کی حتمی وجہ کا تعین ابھی قبل از وقت ہے، تاہم دہشت گردی کے امکان کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
پولیس ترجمان گیٹن لاتھیون نے کہا:”ہم ابھی تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، مگر یہ ایک عالمی شہرت یافتہ اسکی ریزورٹ ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح موجود ہوتے ہیں۔”
حکام نے مقامی رہائشیوں اور سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ آئندہ دنوں میں احتیاط برتیں تاکہ اس مصروف اسکی سیزن کے دوران ہنگامی طبی خدمات پر مزید دباؤ نہ پڑے۔
یہ علاقہ سوئس الپس کے وسط میں واقع ہے اور مشہور پہاڑ میٹرہورن سے تقریباً 25 میل شمال میں ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلیں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا:
“حکومت کی ہمدردیاں متاثرین، زخمیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، اور ہم ان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔”
