نیویارک: نیویارک سٹی کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں فلو (انفلونزا) کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کے باعث ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق، فلو کے کیسز میں حالیہ اضافہ خاص طور پر 0 سے 4 سال اور 5 سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایکٹنگ ہیلتھ کمشنر ڈاکٹر مشیل مورس نے صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے “Don’t Miss Out” نامی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ شہریوں کو بروقت حفاظتی اقدامات کی ترغیب دی جا سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق اس سال فلو کی H3N2 قسم زیادہ فعال ہے، جو اپنی شدید علامات کے لیے جانی جاتی ہے، جن میں شامل ہیں:
تیز بخار اور کھانسی
گلے میں خراش اور جسم میں درد
بعض صورتوں میں قے اور اسہال (ڈائریا)
نیویارک میں فلو کے ساتھ ساتھ RSV اور کورونا وائرس (COVID-19) بھی موجود ہیں۔ اگرچہ کووڈ کیسز میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان تینوں وائرسز کی پیچیدگیوں (جیسے نمونیا) کی وجہ سے شہر میں ہر سال 1,500 سے 2,000 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
محکمہ صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ابھی بھی ویکسین لگوا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہسپتال داخل ہونے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درج ذیل مشورے دیے گئے ہیں:
فلو اور کووڈ کی نئی ویکسین لگوائیں۔
پرہجوم جگہوں پر ماسک پہنیں۔
بار بار ہاتھ دھوئیں۔
طبیعت خراب ہونے کی صورت میں دفتر یا اسکول جانے سے گریز کریں۔
نیویارک سٹی نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے جہاں 100 سے زائد مقامات پر مفت یا کم قیمت پر ویکسین دستیاب ہے۔
