امریکاکاعالمی ادارۂ صحت سےعلیحدگی کاعمل مکمل، مالی واجبات پر پیچیدگیاں برقرار

اس معاملے پر رائٹرز کی جانب سے امریکی وزارت خارجہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم حکام نے تبصرے سے گریز کیا۔

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): امریکا باضابطہ طور پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدگی کی جانب بڑھ چکا ہے، جس کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ کئی برسوں سے کوشاں تھے۔ یہ پیش رفت ایک سال بعد سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنی نئی مدتِ صدارت کے پہلے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے عالمی ادارۂ صحت سے نکلنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی قوانین کے تحت کسی عالمی تنظیم سے علیحدگی کے لیے ایک سال قبل اطلاع دینا اور تمام مالی واجبات کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ چونکہ یہ حکم نامہ 22 جنوری 2025 کو جاری کیا گیا تھا، اس لیے ایک سال مکمل ہونے پر امریکا کی علیحدگی مؤثر ہو گئی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

اگرچہ امریکا نے ایک سال پہلے نوٹس دینے کی قانونی شرط پوری کر لی تھی، تاہم تاحال واجبات ادا نہ کیے جانے کے باعث اس عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکا نے 2024 اور 2025 کے دوران واجب الادا رقوم ادا نہیں کیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 26 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔

اس معاملے پر رائٹرز کی جانب سے امریکی وزارت خارجہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم حکام نے تبصرے سے گریز کیا۔

ادھر فروری میں ہونے والے عالمی ادارۂ صحت کے ایگزیکیٹو بورڈ کے اجلاس میں رکن ممالک امریکا کی ممکنہ علیحدگی اور اس کے قانونی و انتظامی پہلوؤں پر غور کریں گے۔

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے امریکا سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے گا اور تنظیم کا حصہ بنا رہے گا۔

ادھر امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ عالمی ادارۂ صحت دیگر پرانے عالمی اداروں کی طرح بیوروکریسی، مفادات کے ٹکراؤ اور عالمی سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔

اسی دوران عالمی سطح پر صحت کے منصوبوں کے بڑے مالی معاون اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں توقع نہیں کہ امریکا دوبارہ عالمی ادارۂ صحت میں شامل ہوگا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے پہلی مرتبہ 2020 میں بھی امریکا کو ڈبلیو ایچ او سے نکالنے کا عمل شروع کیا تھا، تاہم سابق صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

تاہم 2025 میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دن عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا عالمی ادارۂ صحت کا ایک بڑا مالی معاون رہا ہے، اور اس کی علیحدگی کے باعث عالمی صحت کے منصوبوں، ویکسینیشن مہمات، وبائی امراض سے نمٹنے کی حکمتِ عملی اور دیگر اہم پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *