سڈنی(ویب ڈیسک): آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی ساحل پر فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو قابو میں کرنے والے 43 سالہ احمد الاحمد کوایک امریکی کاروباری شخص نے 65 ہزار امریکی ڈالرز کا عطیہ دیا ہے۔
یہ رقم امریکہ میں اسکوائر کیپیٹل مینجمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ولیم ایک مین نے دی، جنہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر احمد الاحمد کو ہیرو قرار دیا۔
حملہ آور کو روکنے پر احمد الاحمد کو آسٹریلیا بھر میں بہادری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ وہ اس واقعے میں زخمی ہوئے اور اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کی مدد کے لیے آن لائن چندہ مہم شروع کی گئی ہے، جس کے ذریعے اب تک تقریباً 10 لاکھ ڈالرز جمع ہو چکے ہیں۔
یہ چندہ ’’گو فنڈ می‘‘ نامی ویب سائٹ کے ذریعے اکٹھا کیا جا رہا ہے، جو ضرورت مند افراد کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔
بی بی سی نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں احمد الاحمد کو مسلح حملہ آور پر جھپٹتے، اس سے بندوق چھینتے اور پھر اسی اسلحے کو حملہ آور کی طرف تانتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
احمد الاحمد کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ پیشے کے لحاظ سے پھل فروش ہیں اور دو بچوں کے والد ہیں۔ واقعے کے دوران ان کے بازو اور ہاتھ پر گولیاں لگیں، جس کے بعد ان کی سرجری کی گئی۔
نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر کرس منز نے ہسپتال جا کر احمد الاحمد کی عیادت کی اور انہیں حقیقی معنوں میں ایک ہیرو قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی جرات نے بے شمار جانیں بچائیں کیونکہ احمد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک دہشت گرد کو غیر مسلح کیا۔
