تباہ کن بارشیں اور طوفان: ایشیا کے پانچ ممالک شدید متاثر

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے

Atif Khan

جنیوا: عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کی ترجمان کلیر نلس نے کہا ہے کہ انڈونیشیا، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ اور ویت نام ان ممالک میں شامل ہیں جو مون سون کی بارشوں اور ٹراپیکل سائیکلونز کے مشترکہ اثرات سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ترجمان کے ذریعے جاری بیان میں انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ اقوامِ متحدہ ریلیف آپریشنز میں تعاون کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

بیان کے مطابق، یو این تمام متاثرہ ممالک کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ضرورت کی صورت میں UN کنٹری ٹیمیں فوری معاونت فراہم کریں گی۔

WMO کی ترجمان نے کہا کہ ایشیا سیلابوں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے زیادہ کمزور خطہ ہے، اور ادارے کی سالانہ “اسٹیٹ آف دی کلائمٹ” رپورٹس کے مطابق یہاں سیلاب سب سے زیادہ ہونے والی موسمی آفت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ ہفتے سمندری طوفان ’’سینیار‘‘ نے انڈونیشیا کے شمالی سماٹرا، ملائیشیا کے کچھ حصوں اور جنوبی تھائی لینڈ میں تباہ کن بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ خطِ استوا کے اتنے قریب اس نوعیت کے طوفان بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں، اس لیے مقامی آبادی ان کے مقابلے کے تجربے سے محروم ہوتی ہے اور نقصانات بڑھ جاتے ہیں۔

انڈونیشیا میں تباہی: سینکڑوں ہلاک
انڈونیشیا کے قومی ڈیزاسٹر آفس کے مطابق اب تک 604 افراد ہلاک، 464 لاپتہ اور 2,600 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 5 لاکھ 70 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

ویت نام میں شدید بارشوں کا سلسلہ برقرار
کلیر نلس کے مطابق ویت نام کئی ہفتوں سے مسلسل بارشوں کی زد میں ہے اور مزید شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں نے تاریخی مقامات، سیاحتی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

اکتوبر کے آخر میں وسطی ویت نام کے ایک موسمیاتی اسٹیشن نے 1,739 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی، جو ملک کی 24 گھنٹوں میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے اور دنیا میں بھی دوسرے نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ یہ ریکارڈ اب WMO کے خصوصی کمیٹی کے جائزے کے تحت ہے۔

سری لنکا میں انسانی بحران پیدا
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے ترجمان ریکارڈو پیرس نے کہا ہے کہ طوفان ’’ڈِٹوآہ‘‘ کے بعد سری لنکا ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی انسانی ایمرجنسی کا شکار ہے۔
طوفان نے 14 لاکھ افراد کو متاثر کیا جن میں 2 لاکھ 75 ہزار بچے شامل ہیں۔ مواصلات منقطع ہونے اور سڑکیں بند ہونے سے اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

یونیسف کے مطابق گھروں کی تباہی، متاثرہ کمیونٹیز کا تنہا ہوجانا اور پانی، صحت اور تعلیم جیسی اہم سہولیات کا بُری طرح متاثر ہونا بچوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ بے گھر خاندان ہجوم والے غیر محفوظ مراکز میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ آلودہ پانی اور تباہ شدہ نظام بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھا رہے ہیں۔


WMO نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث فضا میں نمی کی مقدار بڑھ رہی ہے، جس سے شدید بارشوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

کلیر نلس نے کہا،“یہ بنیادی سائنسی حقیقت ہے کہ گرم ماحول زیادہ نمی سمیٹتا ہے، اسی لیے ہم بار بار تباہ کن بارشیں دیکھ رہے ہیں اور مستقبل میں بھی دیکھتے رہیں گے۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *