دبئی میں دنیا کا پہلا ’اے آئی شیف‘ متعارف

ووہو نے دبئی کے انہی صارفین میں مقبولیت حاصل کی ہے جو انوکھی اور پرتعیش چیزوں کے عادی ہیں

Editor News

ویب ڈیسک : دبئی کے ایک ریستوران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس دنیا کا ’’پہلا اے آئی شیف‘‘ موجود ہے، جو مستقبل کے جدید رجحانات کے شوقین اس شہر میں نئی ٹیکنالوجی کا تازہ ترین مظاہرہ ہے۔

لگژری مشیلن اسٹارڈ ڈائننگ سے لے کر مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے مستند اسٹریٹ فوڈ تک دبئی اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی کُلینری دنیا کے باعث پہلے ہی مشہور ہے۔

ریستوران ووہو (Woohoo) میں کھانوں کے پیچھے دماغ کوئی انسان نہیں بلکہ اے آئی پروگرام شیف ایمان ہے، جسے ہزاروں تراکیب، عشروں کی تحقیق اور مولیکیولر گیسٹرونومی پر تربیت دی گئی ہے۔

ریستوران کا کہنا ہے کہ شیف ایمان مینو کو بہتر بنانے اور ذائقوں کا توازن قائم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

البتہ فی الحال کھانا تیار کرنے اور پیش کرنے کا عملی کام انسان ہی انجام دیتے ہیں۔

ترک نژاد شریک بانی احمد اویتون چاکر کے مطابق:“ممکن ہے مستقبل میں اے آئی انسانوں سے بہتر کھانے تیار کرے۔”

ووہو کے بین الاقوامی فیوژن مینو میں کچھ پکوان خاص طور پر اے آئی کی تخلیق ہیں، جن میں سب سے نمایاں “ڈائنو سارع ٹارٹار” ہے ایک ایسی ڈش جو ختم ہو چکے رینگنے والے جانوروں کے ذائقے کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتی ہے۔قریباً 50 یورو (58 ڈالر) قیمت والی یہ ڈش مختلف قسم کے کچے گوشت کے ذائقوں سے ملتی جلتی ہے اور اسے ایک دھڑکتی ہوئی پلیٹ پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ یوں محسوس ہو جیسے وہ سانس لے رہی ہو۔

یون لائٹس سے جگمگاتے اس منفرد مقام کے مرکز میں ایک بڑی سلنڈر نما کمپیوٹر ساخت بھی موجود ہے، جسے ریستوران کے لائٹس اور اسموک ایفیکٹس چلانے والا ڈیجیٹل مین فریم کہا جاتا ہے۔

دوسری جانب ووہو نے دبئی کے انہی صارفین میں مقبولیت حاصل کی ہے جو انوکھی اور پرتعیش چیزوں کے عادی ہیں — ایک ایسا شہر جہاں اے آئی کا باقاعدہ وزیر بھی موجود ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *