جاپان: جاپانی حکام نے منگل کے روز شمال مشرقی علاقوں میں 7.5 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد جاری کی گئی سونامی وارننگز کو چند گھنٹوں بعد واپس لے لیا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے اور تقریباً 90,000 باشندوں کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑا۔
زلزلہ مقامی وقت کےمطابق پیر کی رات 11:15 بجے سمندر کے ساحل سے دور آیا،موسمیاتی ایجنسی (JMA) کے مطابق زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔زلزلے کا مرکز اوموری پریفیکچر کے ساحل سے تقریباً 80 کلومیٹر (50 میل) دور، 54 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
جاپان کے 1-7 کے زلزلہ کی پیمانے پر، اوموری پریفیکچر کے ہاچینوہے شہر میں “اپر 6” شدت کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جو اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ کھڑے رہنا یا رینگنے کے بغیر حرکت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
JMA نے ابتدائی طور پر ملک کے شمال مشرقی ساحل پر 3 میٹر (10 فٹ) تک بلند سونامی لہریں آنے کی وارننگ جاری کی تھی۔
ہوکائیڈو، اوموری اور ایواٹے کے پریفیکچرز کے لیے وارننگز جاری کی گئیں۔
کئی بندرگاہوں پر 20 سے 70 سینٹی میٹر (7 سے 27 انچ) تک کی اونچائی کی سونامی لہریں دیکھی گئیں۔
منگل کی صبح ہوتے ہی، JMA نے وارننگز کو ایڈوائزریز میں تبدیل کر دیا اور بعد میں تمام ایڈوائزریز کو اٹھا لیا گیا۔ بڑے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی
وزیر اعظم سنائِ تاکائیچی نے صحافیوں کو بتایا کہ “اب تک مجھے 30 افراد کے زخمی ہونے اور ایک آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔”
ملک کے شمالی علاقوں میں مشرقی جاپان ریلوے نے کچھ سروسز کو معطل کر دیا تھا اور دیگر ٹرین سروسز میں تاخیر کا سامنا رہا۔
زلزلے کے فوراً بعد ہزاروں گھروں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی تھی، لیکن منگل کی صبح تک سروس بحال کر دی گئی۔
زلزلے کی خبر کے بعد ین (Yen) کی قدر میں دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں عارضی طور پر کمی آئی۔
JMA نے ہوکائیڈو سے لے کر چیبا پریفیکچر تک ایک وسیع علاقے کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر دوبارہ طاقتور زلزلہ آنے کے امکان کے لیے چوکس رہیں۔
JMA کے ایک اہلکار نے بریفنگ میں کہا، “یہ امکان ہے کہ اگلے کئی دنوں میں مزید طاقتور اور شدید زلزلے آ سکتے ہیں۔”
توهوكو الیکٹرک پاور اور ہوکائیڈو الیکٹرک پاور کے زیر انتظام علاقے کے جوہری بجلی گھروں میں کوئی غیر معمولی بات رپورٹ نہیں ہوئی۔
