دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے: اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل

اس وقت دنیا کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہ رہی ہے

Editor News

نیویارک: اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، جہاں تنازعات، ماحولیاتی بگاڑ اور بین الاقوامی قوانین کی منظم خلاف ورزیاں عالمی سطح پر قیادت پر اعتماد کو کمزور کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، “دنیا بھر میں لوگ سوال کر رہے ہیں کیا رہنما واقعی سن بھی رہے ہیں؟ کیا وہ عمل کے لیے تیار ہیں؟”

سیکرٹری جنرل نے عالمی سطح پر انسانی تکالیف کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دنیا کی ایک چوتھائی سے زائد آبادی تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں رہ رہی ہے۔
ان کے مطابق 200 ملین سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ تقریباً 120 ملین افراد جنگ، بحرانوں، آفات یا جبر کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔

اس تناظر میں انہوں نے عالمی ترجیحات میں موجود شدید عدم توازن کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا، “ایک ہنگامہ خیز سال کے اختتام پر ایک حقیقت سب سے زیادہ نمایاں ہے: عالمی فوجی اخراجات بڑھ کر 2.7 کھرب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں،” جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد زیادہ ہیں۔

گوتریس نے زور دیا کہ یہ رقم عالمی ترقیاتی امداد سے 13 گنا زیادہ ہے اور افریقی براعظم کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے برابر ہے۔ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے تو 2035 تک فوجی اخراجات بڑھ کر 6.6 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

مایوس کن اعداد و شمار کے باوجود، اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ حل موجود ہیں۔ستمبر 2025 میں انہوں نے رپورٹ “The Security We Need: Rebalancing Military Spending for a Sustainable and Peaceful Future” جاری کی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اخراجات میں معمولی تبدیلیاں بھی غیر معمولی نتائج دے سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ فوجی اخراجات کا چار فیصد سے بھی کم حصہ 2030 تک دنیا سے بھوک کے خاتمے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، جبکہ صرف دس فیصد سے کچھ زائد رقم سے دنیا کے ہر بچے کو مکمل ویکسین فراہم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 15 فیصد رقم ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے سالانہ اخراجات سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ بات بالکل واضح ہے کہ دنیا کے پاس وسائل موجود ہیں تاکہ زندگیاں سنواری جا سکیں، زمین کو شفا دی جا سکے اور امن و انصاف پر مبنی مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔”

نئے سال کے موقع پر عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا،“آئیے اس نئے سال میں اپنی ترجیحات درست کرنے کا عہد کریں۔ ایک محفوظ دنیا کا آغاز غربت کے خلاف زیادہ سرمایہ کاری اور جنگوں پر کم خرچ سے ہوتا ہے۔ امن کو غالب آنا چاہیے۔”

دنیا بھر کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اپنا کردار ادا کریں۔ ہمارا مستقبل عمل کے لیے ہمارے اجتماعی حوصلے پر منحصر ہے۔”

آخر میں انہوں نے کہا،“2026 میں میں دنیا بھر کے رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں: سنجیدہ ہو جائیں۔ درد کے بجائے انسان اور کرۂ ارض کا انتخاب کریں۔ آئیے انصاف، انسانیت اور امن کے لیے مل کر آگے بڑھیں۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *