واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو ہدایت کی ہے کہ وہ تارکینِ وطن اور مشتبہ افراد کی گاڑیاں روک کر تلاشی لینے (Traffic Stops) کا سلسلہ جاری رکھے۔ صدر ٹرمپ نے اس طریقہ کار کو ایجنسی کا “سب سے اہم اور مؤثر ترین” انسدادِ جرائم کا ہتھیار قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر جاری اپنے بیان میں کہا “آئی سی ای کے اہلکار بہترین اور ناگزیر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ہمیں مضبوط، سخت اور سمارٹ بننا ہوگا، اور ہم آئی سی ای کے سب سے مؤثر ہتھیار ‘ٹریفک اسٹاپ’ کو ترک نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم مجرموں کے ہاتھوں میں کھیلیں گے۔” انہوں نے مزید لکھا کہ “انتہا پسند بائیں بازو کے ڈیموکریٹس اس کارروائی کو رکوانا چاہتے ہیں، لیکن میرے دورِ صدارت میں ایسا نہیں ہوگا۔”
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد آئی سی ای (ICE) نے داخلی طور پر افسران کو عارضی طور پر ٹریفک اسٹاپس روکنے کی ہدایت کی تھی۔
حالیہ واقعات میں پیر کے روز وفاقی اہلکاروں نے ریاست مین (Maine) کے شہر بڈی فورڈ میں جوان سباسٹین گوریرو کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
گزشتہ ہفتے ہیوسٹن میں میکسیکن شہری لورینزو ساگراڈو اراؤجو وفاقی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔
ان ہلاکتوں کے بعد ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان سیاسی محاذ آرائی دوبارہ تیز ہو گئی ہے۔ ڈیموکریٹس نے ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) میں اصلاحات اور طاقت کے استعمال کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے بھی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین ملن (Markwayne Mullin) پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ہنگامی گاڑیوں کی تلاشی کا عمل فوری طور پر بند کریں۔
دوسری جانب، سابق قائم مقام آئی سی ای ڈائریکٹر جان سینڈویگ نے بھی اس طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولنگ کرنے والے اہلکاروں کے پاس گاڑیوں کو روک کر تلاشی لینے کا مقامی پولیس جیسا وسیع تجربہ نہیں ہوتا، اس لیے اس پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ کے سخت موقف کے بعد یہ واضح ہے کہ انتظامیہ اپنی تارکینِ وطن مخالف سخت پالیسیوں اور کارروائیوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔





