نیویارک (ویب ڈیسک): میئر زہران ممدانی، ڈپٹی میئر برائے ہاؤسنگ اینڈ پلاننگ لیلیٰ بوزورگ اور ہاؤسنگ پریزرویشن اینڈ ڈویلپمنٹ (HPD) کی کمشنر دینا لیوی نے ایسٹ ویلیج میں پولیس (NYPD) کی ایک غیر استعمال شدہ پارکنگ لاٹ کو ایک کثیر المقاصد رہائشی منصوبے “دی اوریا” (The Aurea) میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تقریباً 131 سستے گھر، ایک جدید سینئر سینٹر، کمیونٹی کے لیے جگہ اور متبادل پارکنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ممدانی انتظامیہ کے تحت سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کا یہ پہلا تاریخی منصوبہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تعمیر و انتظام کے لیے “دس لینڈ از آورز کمیونٹی لینڈ ٹرسٹ” (This Land is Ours Community Land Trust) کو بطور پارٹنر شامل کیا گیا ہے، جو طویل عرصے تک ان گھروں کے سستے پن (Affordability) اور مقامی برادری کی نگرانی کو یقینی بنائے گا۔
تعمیر کیے جانے والے اپارٹمنٹس کا 30 فیصد حصہ ان نیویارکرز کے لیے مخصوص ہوگا جو ماضی میں بے گھر رہ چکے ہیں۔ غیر منافع بخش تنظیم “ہاؤسنگ ورکس” (Housing Works) ان رہائشیوں کو موقع پر ہی معاون خدمات فراہم کرے گی۔
“دی اوریا” کی عمارت کو ماحول دوست اور توانائی بچانے والے جدید ترین ‘پیسو ہاؤس’ (Passive House) معیار پر ڈیزائن کیا جائے گا۔ اس میں خوبصورت ٹیرس، گرین روفس (سبز چھتیں) اور مکمل الیکٹرک سسٹمز نصب ہوں گے۔
عوامی فنڈنگ اور ہدف: یہ پراجیکٹ میئر ممدانی کے خصوصی ہاؤسنگ پلان “Block by Block” کا حصہ ہے۔ ممدانی انتظامیہ نے اپنے پہلے بجٹ کے ذریعے نئے سستے گھروں کی تعمیر کے لیے 5 بلین ڈالر کے فنڈز مختص کیے ہیں، جس کا ہدف اگلے 10 سالوں میں 2 لاکھ نئے سستے گھر بنانا اور 2 لاکھ پرانے گھروں کو محفوظ کرنا ہے۔
میئر زہران ممدانی نے اس سنگ میل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”ہم NYPD کی ایک کار پارکنگ لاٹ کو 131 سستے گھروں، بزرگوں کے سینٹر اور کمیونٹی کے لیے کارآمد جگہ میں تبدیل کر رہے ہیں، کیونکہ سرکاری زمین صرف عوام کی خدمت کے لیے ہونی چاہیے۔ یہ منصوبہ کمیونٹی کی نگرانی میں مستقل اور سستی رہائش فراہم کرے گا۔ پانچوں اضلاع میں ہم بالکل اسی طرح کے سستے، کمیونٹی کی قیادت میں بننے والے گھر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”
سوشل ایکویٹی، ہاؤسنگ ورکس اور کوپر اسکوائر کمیٹی جیسے اقلیتی اور فلاحی اداروں پر مشتمل ترقیاتی ٹیم نے اس منصوبے کو ایسٹ ویلیج کے رہائشیوں کی سالہا سال کی جدوجہد کی جیت قرار دیا ہے۔





