نیویارک: نیویارک کے علاقے برونکس (Bronx) میں پیر کی رات گئے ہونے والی فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں ایک 39 سالہ خاتون کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ پہلے ہی اپنے متعدد پیاروں کی موت کا صدمہ جھیلنے والی بوڑھی ماں اپنی بیٹی کی ناگہانی موت پر ایک بار پھر گہرے سوگ اور صدمے میں ڈوب گئی ہیں۔
مقتولہ کی ماں بیورلی پیٹرسن (Beverly Patterson) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ سن کر ابھی تک حیرت اور انتہائی صدمے کی حالت میں ہیں کہ ان کی بیٹی، 39 سالہ جولیہ اینڈرسن (Julia Anderson)، کو برونکس کے علاقے ویک فیلڈ میں مرڈاک ایونیو (Murdock Avenue) پر بے دردی سے گولی مار دی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق، ماؤنٹ ورنن کی رہائشی جولیہ اینڈرسن کی لاش رات تقریباً 11:56 بجے ان کی سیاہ جیپ کے قریب سے ملی، جس کے سینے پر گولیوں کے متعدد نشانات تھے۔ انہیں فوری طور پر زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔
مقتولہ کی ماں نے روتے ہوئے کہا:”مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے۔ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ میں صرف یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ میری معصوم بیٹی کے ساتھ ایسا کیوں اور کس نے کیا۔”
حالیہ عرصے میں اپنی والدہ، دو خالاؤں اور ایک کزن کو کھونے والی ممتا نے بتایا کہ وہ روزانہ کی طرح بیٹی کے کام سے واپس آنے کا انتظار کر رہی تھیں کہ انہیں چھوٹی بیٹی کی جانب سے یہ دل دہلا دینے والی کال موصول ہوئی۔
اہلِ خانہ کے مطابق جولیہ اینڈرسن معذور افراد کی دیکھ بھال کرنے والی ہوم کیئر گیور (In-home Caregiver) کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ عام طور پر دوپہر کو کام پر نکلتی تھیں اور آدھی رات تک واپس لوٹتی تھیں۔ وہ کام ختم کر کے گھر ہی آ رہی تھیں کہ راستے میں موت کا شکار ہو گئیں۔
واقعے کے چشم دید پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے رات کو گولیوں کی آوازیں سنیں اور پولیس کے پہنچنے کے بعد کسی کو جیپ سے نکالتے ہوئے دیکھا۔ ایک پڑوسی ایلس پینروز کا کہنا تھا، “یہ سب بہت خوفناک ہے۔ میں بس امید کرتی ہوں کہ مجرم پکڑا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔”
پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مقتولہ کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تھا یا نہیں۔ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔





