واشنگٹن (ویب ڈیسک):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اچانک انتقال کر جانے والے سینیئر ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم (Lindsey Graham) کے ساتھ اپنی آخری فون کال کی سنسنی خیز اور جذباتی تفصیلات شیئر کی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ موت سے محض چند منٹ یا چند گھنٹے قبل ان کی سینیٹر گراہم سے بات چیت ہوئی تھی، اسی لیے ان کے اچانک چلے جانے پر وہ شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔
این بی سی نیوز (NBC News) کے پروگرام “میٹ دی پریس” میں گفتگو کرتے ہوئے 80 سالہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ لِنڈسے گراہم کو اپنے خاندان کے ایک فرد کی طرح سمجھتے تھے اور ان کا اس طرح اچانک بچھڑ جانا ناقابلِ یقین ہے۔
صدر ٹرمپ نے یاد کرتے ہوئے بتایا:”مجھے ہفتے کی شام تقریباً 7 بجے کے قریب لِنڈسے گراہم کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یوکرین کا دورہ مکمل کر کے ابھی ابھی لینڈ ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بہت لمبا اور تھکا دینے والا سفر تھا۔ وہ فون پر تھوڑے تھکے ہوئے ضرور لگ رہے تھے، لیکن بالکل ٹھیک اور پرفیکٹ تھے۔”
ٹرمپ کے مطابق، گراہم اپنی موت سے چند منٹ پہلے بھی صدارتی ووٹر آئی ڈی قانون “سیو امریکہ ایکٹ” (SAVE America Act) کو پاس کروانے کے لیے مہم چلا رہے تھے اور فون پر انتہائی پرجوش انداز میں کہہ رہے تھے کہ “ہم اس بل کے لیے بالکل تیار ہیں”۔ واضح رہے کہ لِنڈسے گراہم نے مرنے سے قبل سی بی ایس نیوز کی اینکر مارگریٹ برینن سمیت کئی اہم شخصیات کو بھی کالز کی تھیں کیونکہ وہ اتوار کو لائیو ٹی وی شو میں شرکت کرنے والے تھے۔
صدر ٹرمپ اور سینیٹر گراہم کے تعلقات ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ 11 سال قبل، 2016 کے صدارتی پرائمری انتخابات کے دوران دونوں ایک دوسرے کے کٹر حامی اور تلخ ترین حریف تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب ٹرمپ نے ایک عوامی ریلی میں لِنڈسے گراہم کا پرسنل موبائل نمبر اسٹیج سے پڑھ دیا تھا، جس کے جواب میں گراہم نے ایک اشتہار جاری کیا جس میں وہ اپنا فون مختلف طریقوں سے تباہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ گراہم اس وقت اپنے بہترین دوست سینیٹر جان میک کین پر ٹرمپ کی تنقید کی وجہ سے شدید ناراض تھے۔
تاہم، 2018 میں امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس بریٹ کاوانا (Brett Kavanaugh) کی نامزدگی کے دوران جب ڈیموکریٹس نے ان پر الزامات لگائے، تو لِنڈسے گراہم سینیٹ کمیٹی میں ڈیموکریٹس پر پھٹ پڑے اور کاوانا کا تاریخی دفاع کیا۔ صدر ٹرمپ نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا:
“جسٹس کاوانا کے دفاع میں لِنڈسے کا وہ انداز امریکی سینیٹ کی تاریخ کا کلاسک تھا۔ اس اقدام نے بریٹ کاوانا کی سپریم کورٹ تک رسائی کو بچایا، اور ایسا کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا ۔”
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لِنڈسے گراہم میں یہ منفرد صلاحیت تھی کہ وہ سخت اختلافات کے باوجود ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام نکال لیتے تھے، جو بہت کم ریپبلکنز کر پاتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا، “میں تو مذاق میں اکثر کہتا تھا کہ لِنڈسے تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے۔ وہ رواں سال کے وسط مدتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتنے والے تھے، سب کچھ طے تھا، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔”
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کے ذہن میں سینیٹر گراہم کی خالی نشست کو پُر کرنے کے لیے ایک نام موجود ہے، تاہم انہوں نے اس کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔





