واشنگٹن / دبئی (ویب ڈیسک): امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تیسرے مرحلے میں گزشتہ تین روز کے دوران تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فضائی اور بحری حملے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔
سینٹکام کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، اس آپریشن میں زمینی اڈوں اور بحری بیڑوں سے اڑان بھرنے والے جدید جنگی طیاروں، ڈرونز اور گائیڈڈ میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے اہداف کو ہٹ کیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان تین راتوں پر مشتمل آپریشنز میں مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ حالیہ لہر میں ایران کے مندرجہ ذیل اہم فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا:
میزائل اور ڈرون لانچنگ تنصیبات
بحری فوجی اثاثے اور کشتیاں
اسلحہ کے بڑے گودام
مواصلاتی مراکز (Communication Hubs)
ساحلی نگرانی کے جدید نظام (Coastal Radar Systems)
سینٹکام کے مطابق، ان حملوں کا بنیادی مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو مفلوج یا کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ عالمی بحری نقل و حمل اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتنی شدید فوجی کشیدگی کے باوجود اس اہم ترین آبی راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تعطل کا شکار نہیں ہوئی اور عالمی توانائی کی سپلائی لائن محفوظ ہے۔
دستاویزات کے مطابق، امریکی افواج نے مئی کے آغاز سے اب تک آبنائے ہرمز سے 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور تقریباً 400 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا ہے۔ تاہم، دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس خطے میں طویل فوجی تصادم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے بڑھا سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
فی الحال ایران کی جانب سے ان امریکی حملوں اور نقصانات کے دعووں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بڑی جنگ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لا رہی ہے۔





