امریکہ کے سینیئر ریپبلکن سینیٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی و بااثر ترین ساتھی لِنڈسے گراہم (Lindsey Graham) 71 برس کی عمر میں “اچانک اور مختصر علالت” کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں انتقال کر گئے۔
ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان میں موت کی تصدیق کی گئی ہے تاہم بیماری کی واضح تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ حال ہی میں یوکرین کا اہم ترین دورہ مکمل کر کے واپس پہنچے تھے جہاں چند گھنٹے بعد ہی انہیں سینے میں تکلیف کے باعث ایمرجنسی طبی امداد دی گئی جو کارگر ثابت نہ ہو سکی
لِنڈسے گراہم پہلی بار 2002 میں ریاست ساؤتھ کیرولائنا (South Carolina) سے امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ ریپبلکن پارٹی (Republican Party) کے اندر ایک ایسی منفرد شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے 2015 اور 2016 کے صدارتی پرائمری انتخابات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید مخالفت کی تھی اور انہیں امریکی تاریخ کا “سب سے ناقص امیدوار” قرار دیا تھا۔ تاہم، 2017 میں صدر ٹرمپ کی پہلی باقاعدہ تقریبِ حلف برداری کے بعد دونوں کے تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی آئی اور وہ جلد ہی کیپیٹل ہل (Capitol Hill) پر صدر ٹرمپ کے سب سے وفادار اور قابلِ اعتماد سیاسی مشیروں میں شامل ہو گئے۔
لِنڈسے گراہم رواں سال کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) میں پانچویں مرتبہ سینیٹ کی نشست کے لیے میدان میں اترنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کے اچانک انتقال سے ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے کیونکہ سینیٹ میں ریپبلکنز کی اکثریت پہلے ہی سینیٹر مچ میک کونل کی عدم موجودگی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ قانون کے مطابق اب ساؤتھ کیرولائنا کے گورنر ہنری میک ماسٹر عارضی طور پر اس نشست کو بھرنے کے لیے کسی نام کا اعلان کریں گے، جبکہ ریپبلکن امیدوار کے انتخاب کے لیے اگست میں خصوصی پرائمری الیکشن کرائے جانے کا امکان ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این (CNN) سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر گراہم کو ایک “پیدائشی سیاست دان” اور “عظیم محبِ وطن” قرار دیا جو تمام سیاسی دھڑوں سے کام نکلوانے کی منفرد صلاحیت رکھتے تھے۔





