لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

امریکامیں آئی سی ای ایجنٹ کی فائرنگ سے 35 سال سےمقیم محنت کش ہلاک

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکہ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک تارکِ وطن کی ہلاکت کے بعد مقامی سیکیورٹی حکام، سیاسی رہنماؤں اور مقتول کے اہلخانہ نے واقعے کی شفاف اور آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب آئی سی ای (ICE) حکام ایک ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ایک مبینہ غیر قانونی تارکِ وطن کو گرفتار کرنے کے لیے گاڑی روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

امیگریشن ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ مقتول، جس کی شناخت لورینزو سالگاڈو اراؤجو (Lorenzo Salgado Araujo) کے نام سے ہوئی ہے، نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنی کار آئی سی ای کی گاڑی سے ٹکرا دی اور رکنے کے احکامات کو نظر انداز کیا۔ ایجنسی کے مطابق، ملزم نے ایک ایجنٹ پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کی، جس پر افسر نے “دفاعِ خود” میں گولی چلائی، جو لورینزو کو لگی اور وہ ہسپتال جا کر دم توڑ گیا۔

بدھ کے روز مقتول کے اہلخانہ اور سماجی کارکنوں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی جس میں امریکی کانگریس کی رکن سلویہ گارسیا، کمشنر لیسلی برائیونز اور کرسچن مینیفی سمیت کئی اہم سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی اور ایجنسی سے تحقیقات میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔

مقتول کے بڑے بیٹے رونالڈو سالگاڈو نے اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا:”میرے والد ایک محنتی اور خاندانی انسان تھے، جو گزشتہ 35 سال سے امریکہ میں مقیم تھے اور اپنی فیملی کو امریکی خواب (American Dream) دینے کے لیے دن رات محنت کر رہے تھے۔ وہ اس صبح بھی کام پر جا رہے تھے اور اپنے ورک پرمٹ کے حصول کے قانونی عمل میں مصروف تھے۔ وہ اس طرح سرِعام مارے جانے کے مستحق نہیں تھے۔ ہمیں انصاف چاہیے۔”

دوسری جانب آئی سی ای (ICE) نے امریکی میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے آفس آف انسپکٹر جنرل (DHS OIG) نے ایجنٹ کی فائرنگ کے واقعے کی اعلیٰ سطح پر انکوائری شروع کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) اس پہلو کی انکوائری کر رہا ہے کہ آیا وفاقی قانون نافذ کرنے والے افسر پر گاڑی کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی یا نہیں۔