جنیوا/بونیا: (ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت (WHO) نے جمہوریہ کانگو (DRC) میں ایبولا وائرس (بونڈی بوگیو قسم) کے پھیلنے والے حالیہ بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وباء کا اصل پیمانہ ابھی تک پوری طرح سے واضح نہیں ہو سکا ہے۔
جمہوریہ کانگو کے لیے ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر این اینشیا نے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 4 جولائی تک ملک میں ایبولا کے 1,561 تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن میں 506 اموات شامل ہیں جبکہ 254 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس وقت 10,000 سے زائد ایسے افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو مریضوں کے رابطے میں رہے ہیں۔
ڈاکٹر این اینشیا نے وباء کے مرکز ‘اتوری صوبے’ (Ituri Province) کے دارالحکومت بونیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے جہاں علاج کے مراکز (Treatment Centres) مریضوں سے پوری طرح بھر چکے ہیں اور اب وہاں مزید گنجائش نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، “اس وقت ہمارے پاس ایمبولینسیں بھی کم پڑ گئی ہیں اور اتوری صوبے کی تمام طبی ضروریات کو پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ وباء ایک ایسے وقت میں پھیلی ہے جہاں پہلے ہی مسلح تصادم، شہریوں کی نقل مکانی اور صحت کے نظام پر شدید دباؤ ہے۔”
ایبولا کی اس مخصوص قسم (Bundibugyo species) کا اب تک کوئی منظور شدہ یا ثابت شدہ علاج موجود نہیں ہے۔ تاہم، ایک مثبت پیشرفت کے طور پر 2 جولائی سے مؤثر علاج تلاش کرنے کے لیے کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان ٹرائلز میں دو امید افزا ادویات (MBP134 اور اینٹی وائرل ریمیڈیسیویر) کا اکیلے یا ملا کر تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں ٹیسٹنگ کی یومیہ صلاحیت کو 30 سے بڑھا کر 2,000 سے زائد کر دیا گیا ہے۔
مشرقی کانگو میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہے، جہاں کانگو کی سرکاری فوج (FARDC) اور مسلح ملیشیا گروپس بشمول M23 کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ان جھڑپوں کی وجہ سے طبی ٹیموں کو امدادی کارروائیوں اور نگرانی میں شدید خطرات کا سامنا ہے۔





