ویب ڈیسک|10 نومبر
:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ امریکی حکومت کا کوئی نمائندہ اس سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے گروپ آف 20 (G20) اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کو قرار دیا۔
ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ وہ خود اس سال کے عالمی معیشتوں کے سربراہان کے سالانہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ جے ڈی وینس کو بھیجنے کا منصوبہ تھا، تاہم ذرائع کے مطابق اب وہ بھی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا،
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا،”یہ ایک شرمناک بات ہے کہ G20 کا اجلاس جنوبی افریقہ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ افریکانرز (جنوبی افریقہ کے سفید فام کسانوں) کے ساتھ زیادتیاں، تشدد، اموات اور زمینوں پر قبضے جیسے واقعات رونما رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے جنوبی افریقی حکومت پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ اقلیتی سفید فام کسانوں پر ظلم و جبر کی اجازت دیتی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت امریکا نے پناہ گزینوں کی سالانہ تعداد کم کر کے 7,500 کر دی تھی، جن میں زیادہ تر سفید فام جنوبی افریقی شامل تھے جنہیں مبینہ طور پر اپنے ملک میں امتیاز اور تشدد کا سامنا ہے۔
دوسری جانب جنوبی افریقی حکومت نے ان الزامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفید فام شہری عام طور پر سیاہ فام آبادی کے مقابلے میں زیادہ بہتر معیارِ زندگی رکھتے ہیں، حالانکہ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے خاتمے کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل راما فوسا کے مطابق، انہوں نے ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ افریکانرز پر امتیازی سلوک اور ظلم کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
اس کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی افریقی حکومت پر اپنی تنقید جاری رکھی۔ اسی ہفتے میامی میں ایک اقتصادی تقریر کے دوران، ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی افریقہ کو G20 سے نکال دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک G20 وزرائے خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا، کیونکہ اس کا ایجنڈا تنوع، شمولیت، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
