واشنگٹن: امریکی امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ افراطِ زر (Inflation) کے پیشِ نظر مختلف امیگریشن فوائد کی فیسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ نئی فیسیں یکم مارچ 2026 سے لاگو ہوں گی
امریکی محکمہ شہریت و امیگریشن (USCIS) نے یکم مارچ 2026 سے ایچ ون بی (H-1B) سمیت متعدد ویزا کیٹیگریز کے لیے پریمیم پروسیسنگ فیس میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس کے خلاف قانونی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے۔
امریکی اپیل کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اس متنازع فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت تیز کر دی ہے جس میں اعلیٰ ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے 100,000 ڈالر (ایک لاکھ ڈالر) کی فیس تجویز کی گئی ہے۔
امریکن چیمبر آف کامرس کا کہنا ہے کہ اگر مارچ میں ہونے والی سالانہ ایچ ون بی لاٹری سے پہلے عدالت نے ریلیف نہ دیا تو بہت دیر ہو جائے گی اور آجروں (Employers) کے لیے اس پروگرام میں حصہ لینا ناممکن ہو جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ یہ بھاری فیس امریکی کارکنوں کے تحفظ اور غیر ملکیوں کے ذریعے کم اجرت پر کام کروانے کے رجحان کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) 27 فروری سے ایچ ون بی لاٹری کے پرانے “رینڈم” (قرعہ اندازی) سسٹم کو ختم کر رہا ہے۔ اب نئے سسٹم کے تحت ان افراد کو ترجیح دی جائے گی جن کی تنخواہیں زیادہ ہوں گی اور جو اعلیٰ ہنر مند ہوں گے۔
یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان بین الاقوامی طلباء کے لیے مشکل پیدا کریں گی جو اپنی تعلیم کے بعد OPT یا STEM-OPT کے ذریعے امریکہ میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ فیسوں میں اضافے اور سخت قوانین کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے غیر ملکی ہنر مندوں کو اسپانسر کرنا اب مزید مہنگا اور پیچیدہ عمل بن جائے گا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ فیسوں سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی سے زیرِ التواء کیسز (Backlogs) کو نمٹانے، سسٹم کو جدید بنانے اور شہریت کی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
