واشنگٹن: امریکہ کے مشرقی علاقوں میں جاری جان لیوا اور شدید گرمی کی لہر (Heat Wave) نے یومِ آزادی (Four of July) کی تقریبات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، فلیڈلفیا اور بوسٹن جیسے بڑے شہروں میں درجہ حرارت 100 ڈگری فارن ہائیٹ (تقریباً 38 ڈگری سیلسیس) سے اوپر چلا گیا ہے، جبکہ حبس کے باعث شدت 110 سے 113 ڈگری تک محسوس کی جا رہی ہے۔
فلیڈلفیا میں ملک کی سب سے بڑی اور تاریخی ‘انڈیپینڈنس ڈے پریڈ’ کو شدید گرمی کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نیو جرسی اور پنسلوانیا کے دیگر علاقوں میں بھی پریڈز منسوخ ہو چکی ہیں۔
جبکہ واشنگٹن ڈی سی میں ‘کیپیٹل فورتھ’ کنسرٹ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا، تاہم پولیس نے شہریوں کو وافر مقدار میں پانی ساتھ لانے کی سخت ہدایت کی ہے۔
فلیڈلفیا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فین فیسٹیول کے اوقات کار کو کم کر دیا گیا ہے اور کئی اسٹریٹ پارٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
سائنسدانوں کے نیٹ ورک ‘ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن’ (World Weather Attribution) کے مطابق، انسانی سرگرمیوں اور فوسل فیول (Fossil Fuel) کی آلودگی کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) نے اس گرمی کی لہر کو اتنا شدید اور خطرناک بنا دیا ہے۔
ایئر کنڈیشنرز کے بے تحاشا استعمال کے باعث پاور گرڈز پر شدید دباؤ ہے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ڈیٹا سینٹرز کو پبلک گرڈ کے بجائے اپنے بیک اپ سسٹم استعمال کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیویارک میں ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہیں، جس کے بعد میئر زہران ممدانی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے AC کو 78 ڈگری پر رکھیں اور اضافی برقی آلات بند کر دیں۔
شدید گرمی کی وجہ سے ٹرین کی پٹریوں کے متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر ‘ایمٹریک’ (Amtrak) ٹرینوں کو کم رفتار سے چلایا جا رہا ہے، جس سے مسافروں کو تاخیر کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلٹا ایئر لائنز نے نیویارک کے لاگارڈیا ایئرپورٹ پر ہائی ہیٹ ایڈوائزری جاری کی ہے۔





