مالیاتی سال 2027 کے لیے 125.8 ارب ڈالرز کے بجٹ پر حتمی اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ بجٹ میئر کی جانب سے پیش کردہ ابتدائی ایگزیکٹو بجٹ سے تھوڑا بڑا ہے، جس کا مقصد غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے نیویارکرز کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اس بجٹ معاہدے کی سب سے بڑی کامیابی ہاؤسنگ واؤچر پروگرام (Housing Voucher Program) پر جاری طویل قانونی تنازع کا خاتمہ ہے۔
ہاؤسنگ واؤچر کے لیے فنڈز: سٹی کونسل اور میئر کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت 175 ملین ڈالرز کا نیا ہاؤسنگ واؤچر پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ میئر ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران کونسل کے خلاف جاری مقدمہ واپس لینے کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کر دیا گیا ہے جس سے اب ہزاروں مزید افراد اس پروگرام کے اہل ہو سکیں گے۔
سستے ٹرانسپورٹ کی سہولت: بجٹ میں نیویارک سٹی کے سستے سفری پروگرام ‘فیئر فیرز’ (Fair Fares) کو مزید وسعت دینے کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں، جس کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو آدھی قیمت پر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت ملتی ہے۔
مالیاتی بحران پر تنقید: جہاں سٹی ہال اس بجٹ کا جشن منا رہا ہے، وہی سٹیزنز بجٹ کمیشن (CBC) نے خبردار کیا ہے کہ یہ بجٹ شہر کے گہرے مالیاتی مسائل کا مستقل حل نہیں ہے۔ کمیشن کے صدر اینڈریو رین کا کہنا ہے کہ میئر کو وراثت میں ملنے والا 12 ارب ڈالرز کا بجٹ خسارہ فی الحال عارضی بچتوں اور شارٹ ٹرم فنڈز سے پورا کیا گیا ہے، جس کے باعث نیویارک کو اگلے سالوں میں دوبارہ بڑے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





