اسلام آباد / نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ‘ٹوکنائزیشن’، جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کے عالمی مالیاتی نظام پر پہلے بین الاقوامی پالیسی ڈائیلاگ کی کامیابی سے مشترکہ میزبانی کی ہے۔ اس اہم اجلاس میں ڈیجیٹل فنانس کے مستقبل اور اس میں ترقی پذیر ممالک (گلوبل ساؤتھ) کے مؤثر کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی جدید تشکیل میں اہم اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں پاکستان ورچوئل اسسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب کی قیادت اور کاوشوں کو ملک کے لیے ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین PVARA بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی نظام تیزی سے نئے سرے سے ترتیب پا رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو اس کے قوانین اور فریم ورک بنانے میں برابر کا شریک ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سخت پابندیاں ٹیکنالوجی کے ارتقاء کو نہیں روکتیں بلکہ ریاستوں کو خود اس دوڑ سے باہر کر دیتی ہیں۔
بلال بن ثاقب نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے 8 سالہ بینکنگ پابندی کے دور سے نکل کر ورچوئل اثاثوں کے باقاعدہ ریگولیٹری نظام کے قیام تک کا سفر محض 6 ماہ کے ریکارڈ عرصے میں طے کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتوں کو سست رو کمیٹیوں کی بجائے ٹیکنالوجی کی رفتار سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ٹوکنائزیشن کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کو نہ صرف تیز تر بلکہ انتہائی سستا بنایا جا سکتا ہے، جبکہ ملک میں سرکاری قرضوں اور سکوک (Sukuk) کی ٹوکنائزیشن پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔




