واشنگٹن: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سعودی عرب سے تیل کی عالمی سپلائی میں بڑے پیمانے پر تعطل کے خدشات میں کمی کے باعث مارکیٹ پر قیمتیں نیچے لانے کا دباؤ بڑھ گیا۔
جمعے کو برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت میں 79 سینٹ کی کمی دیکھی گئی جس کے بعد یہ تقریباً 104 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 70 سینٹ کی کمی کے بعد 101.20 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا۔
رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب کے اہم ریڈ سی ایکسپورٹ مرکز ‘ینبع’ سے خام تیل کی لوڈنگ معطل ہونے اور یورپ کی ترسیلات کی منسوخی کی خبروں پر برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھیں۔
تاہم سعودی عرب کی جانب سے ‘ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن’ کی تقریباً نصف صلاحیت کو چند دنوں میں بحال کرنے کی کوششوں اور ایشیائی ریفائنرز کو اضافی خام تیل کی فراہمی کی اطلاعات کے بعد قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان پیدا ہوا۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق تیل کی قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ عملی طور پر سپلائی کی بہتر بحالی کی منتظر ہے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تیل کی نقل و حمل بدستور خطرات سے دوچار ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹوگو (Togo) کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک طرف سعودی عرب کی سپلائی بحال ہونے کی توقعات نے قیمتوں کو نیچے دھکیلا ہے، تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی عسکری کشیدگی نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو بدستور غیر یقینی سے دوچار کر رکھا ہے۔





