نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس سے قبل نیویارک کے میئر زوہران کوامے ممدانی اور اسرائیلی سفارت کاروں کے درمیان زبانی جنگ شدید تر ہو گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے مستقل مندوب ڈینی ڈینن (Danny Danon) نے ایک پریس کانفرنس کے دوران میئر زوہران ممدانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب رپورٹرز نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی آئندہ ہفتے نیویارک آمد سے متعلق سوال کیا۔ سفیر ڈینی ڈینن نے الزام عائد کیا کہ میئر ممدانی نیویارک میں یہود دشمنی (Antisemitism) اور افراتفری کو ہوا دے رہے ہیں اور امریکی دشمنوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن کا کہنا تھا کہ “اگر کسی کو گرفتار کیا جانا چاہیے تو وہ میئر ممدانی ہیں جو امریکی دشمنوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ممدانی کو چاہیے کہ وہ احتجاج کی ترغیب دینے کے بجائے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے پر توجہ دیں۔”
ڈینی ڈینن نے نیویارک انتظامیہ کی جانب سے جولائی میں اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر سے ملاقات کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ شدید دھمکیوں اور میئر کے اشتعال انگیز بیانات کے باوجود وزیراعظم نیتن یاہو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پروقار انداز میں خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ میئر زوہران ممدانی، جو طویل عرصے سے فلسطین کے حامی اور اسرائیل کے ناقد رہے ہیں، نے جولائی میں نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے الزامات کے تحت نیویارک آمد پر ان کی گرفتاری کے قانونی امکانات کا جائزہ لینے کا ذکر کیا تھا۔
جمعرات کو سیکیورٹی برریفنگ کے دوران جب میئر ممدانی سے ان کے سخت بیانات اور پولیس مشوروں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا:
“پولیس ڈیپارٹمنٹ سے میری گفتگو محض روایتی سیکیورٹی تیاریوں اور شہریوں کو محفوظ رکھنے پر مبنی تھی۔ مجھے این وائے پی ڈی (NYPD) کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔”
میئر نے مزید بتایا کہ وہ جنرل اسمبلی کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا دیگر مخصوص رہنماؤں سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے فی الحال تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔




