لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

افغان سرزمین سےدہشت گردی پرخاموش نہیں بیٹھ سکتے،اقوامِ متحدہ میں پاکستان کاسخت موقف

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیراسیم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کے اہم اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان کے تمام تر مسائل کی بنیادی جڑ دہشت گردی ہے، اور پاکستان افغانستان سے پھیلنے والی اس دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ بن رہا ہے۔

سفیر اسیم افتخار نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ طالبان اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP)، بی ایل اے (BLA)، مجید بریگیڈ، داعش خراسان (ISIL-K) اور ای آئی ٹی ایم (ETIM) جیسے خطرناک دہشت گرد گروہوں کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ تمام تنظیمیں افغان سرزمین پر مکمل آزادانہ اور بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ بیرونی عناصر اور ’اسپائلرز‘ بھی پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے افغانستان میں موجود اپنے پروکسیز کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

گزشتہ تین سالوں میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد بے گناہ پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

پاکستان اس مسلسل دہشت گردانہ یلغار پر خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے خود دفاع (Self-Defense) کے تحت بھرپور جواب دیا جائے گا۔

افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا جائے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو حاصل سہولت کاری کا فوری نوٹس لے۔