برسلز: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین (Ursula von der Leyen) نے یورپی پارلیمنٹ میں اپنے سالانہ ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے دوران یورپی یونین کی اپنی مستقل سیکیورٹی کونسل قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کونسل میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے علاوہ یوکرین، برطانیہ، ناروے اور کینیڈا کو بھی شامل کیا جائے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یوکرین میں جاری جنگ اور یورپی ممالک کے خلاف مبینہ روسی ‘ہائبرڈ خطرات’ (Hybrid Threats) میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہائبرڈ واقعات میں تخریب کاری، آتش زنی، سائبر حملے اور ڈرونز کی دراندازی شامل ہے، جن سے نمٹنے کے لیے یورپ کو ایک ہم آہنگ اور مضبوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے تحت یورپ کے دفاعی تعاون پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد یورپی حکام اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانے کے خواہاں ہیں۔
کینیڈا کی اس کونسل میں شمولیت ایک ایسے وقت میں اہم ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی عروج پر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو ’51ویں امریکی ریاست’ بنانے کے بیانات کو کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
اگرچہ تجاویز کی مکمل تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئیں، تاہم بعض دفاعی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نئی سیکیورٹی کونسل نیٹو (NATO) کے موجودہ ڈھانچے کی محض ایک نقل ثابت ہو سکتی ہے، جس سے اختیارات کا ابہام پیدا ہونے اور اس کے محض مشاورتی فورم بن کر رہ جانے کا خدشہ ہے۔




