لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

جسٹس عائشہ اےملک کوعالمی اعزاز، ‘انٹرنیشنل لیڈرلائف ٹائم ایوارڈ’سےنوازدیاگیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

ویانا: آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ عالمی ‘ویمن اِن لا کانفرنس 2026’ کے موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی معزز جج جسٹس عائشہ اے ملک کو قانون، انصاف، صنفی مساوات اور انسانی حقوق کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ‘انٹرنیشنل لیڈر لائف ٹائم ایوارڈ’ (Justitia Awards) سے نوازا گیا ہے۔

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق یہ اعزاز جسٹس عائشہ ملک کی جانب سے قانونی شعبے میں خواتین کی مؤثر شمولیت اور حقوق کی بالا دستی کے لیے کی جانے والی انتھک کاوشوں کا اعتراف ہے۔ کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے جسٹس عائشہ ملک نے قانونی استدلال میں صنفی تناظر کی اہمیت اور عدلیہ میں خواتین کی متناسب نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک نے 24 جنوری 2022 کو پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج کی حیثیت سے حلف اٹھا کر ملکی عدالتی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل عبور کیا تھا۔

انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم پاکستان کالج آف لا لاہور اور دنیا کی نامور ہارورڈ لا اسکول (Harvard Law School) سے حاصل کی۔

لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے خواتین کے حقوق پر متعدد اہم فیصلے دیے، جن میں 2021 کا وہ تاریخی فیصلہ بھی شامل ہے جس کے تحت زیادتی کے مقدمات میں متاثرہ خواتین کے لیے غیر سائنسی ‘ورجِنٹی ٹیسٹ’ کے استعمال کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق عالمی سطح پر جسٹس عائشہ اے ملک کو ملنے والا یہ باوقار ایوارڈ نہ صرف ان کی ذاتی علمی و عدالتی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور ملک میں خواتین کی بااختیاری کا روشن ثبوت ہے۔