بتاریخ:3ستمبر
نیویارک: نیویارک شہر کے میئر زوہران کوامے ممدانی (Mayor Zohran Kwame Mamdani) نے بروکلم کے علاقے کراؤن ہائٹس (Crown Heights) میں طویل عرصے سے نظر انداز کی گئی رینٹ اسٹیبلائزڈ تین عمارتوں کی نئے مالکان کو منتقلی کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس پیشرفت سے ان عمارتوں میں واقع 88 گھروں کی حالتِ زار میں بہتری اور تحفظ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ عمارتیں (1018 ایسٹرن پارک وے، 1074 ایسٹرن پارک وے، اور 1392 اسٹرلنگ پلیس) پہلے روبن ڈوکلر (Rubin Dukler) کی ملکیت میں تھیں، جن کا شمار نیویارک کے بدترین لینڈ لارڈز میں ہوتا تھا۔ ان عمارتوں کو بدھ کے روز مارک شوارٹز (Mark Schwartz) کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا۔
نیویارک سٹی ہاؤسنگ پریزرویشن اینڈ ڈیولپمنٹ (HPD) کے مطابق ان تینوں عمارتوں میں سیوریج، لیکج، پائپ لائنز اور حشرات الارض سمیت 1,000 سے زائد قوانین کی خلاف ورزیاں سامنے آئی تھیں۔ ایچ پی ڈی کی کمشنر دینا لیوی (Dina Levy) کے مطابق یہ عمارتیں الٹرنیٹیو انفورسمنٹ پروگرام (AEP) کا حصہ تھیں جنہیں فوری مرمت کی اشد ضرورت تھی۔
‘ڈوکلر ٹیننٹ یونین’ کے کرایہ دار سال 2018ء سے بنیادی سہولیات اور مرمت کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے تھے۔ یونین نے نئے مالکان مارک شوارٹز کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت عمارتوں کی بحالی کرایہ داروں کی نگرانی میں ہوگی اور آئندہ ان عمارتوں کی مالکانہ حقوق کرایہ داروں کو منتقل کیے جائیں گے۔
“ڈوکلر ٹیننٹ یونین کے رہائشیوں نے سالہا سال عدم توجہی اور بدحالی کا سامنا کیا۔ آج سے ان عمارتوں کے ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ ہم نئے مالکان اور کرایہ داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ہر نیویارکر کو محفوظ اور مستحکم چھت مل سکے۔
ممدانی انتظامیہ نے اپنے پہلے بجٹ میں سستے گھروں کے تحفظ اور تعمیر کے لیے 5 سالوں میں 22 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جبکہ دہائی کے دوران 2 لاکھ نئے گھروں کی تعمیر اور 2 لاکھ پرانے گھروں کو قابلِ رہائش بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔




