نیویارک: نیویارک کی انتظامیہ نے تعلیمی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔
میئر زوہران کواَمی ممدانی (Zohran Kwame Mamdani) اور اسکولز چانسلر کمار ایچ ساموئلز (Kamar H. Samuels) نے نیویارک کے پبلک اسکولوں میں طلباء کے لیے ‘جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (Generative AI) کے استعمال پر ایک سالہ پابندی (Moratorium) کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ تعلیمی سال 2026-2027ء سے لاگو ہوگا اور اس سے تقریباً 6 لاکھ طلباء متاثر ہوں گے۔
نئی پالیسی کے تحت پری کے (2-K) سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے تمام طلباء کے لیے جنریٹو اے آئی کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ تمام کلاسوں کے لیے AI چیٹ بوٹس (Chatbots) کے استعمال کو روک دیا گیاہے
انتظامیہ نے طلباء کے سکرین ٹائم (Screen Time) کے حوالے سے بھی سخت گائیڈ لائنز جاری کی ہیں:
دوسری جماعت اور اس سے چھوٹے بچےپر انفرادی سکرین ٹائم پر مکمل پابندی۔
تیسری سے پانچویں جماعت کے بچے روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 منٹ۔
چھٹی سے آٹھویں جماعت: روزانہ زیادہ سے زیادہ 45 منٹ۔
ہائی اسکول کے طلباء کے لیے اے آئی کی خواندگی (AI Literacy) کے سال میں دو سیشنز لازمی قرار دیے گئے ہیں تاکہ طلباء ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں اور اس کے خطرات کا تنقیدی جائزہ لے سکیں۔ اس کے علاوہ ہائی اسکول کے کل طلباء کے صرف 5 فیصد (زیادہ سے زیادہ 50,000 طلباء) کے لیے محدود پائلٹ پروگرامز (جیسے Quill، Edia، اور Playlab) کی اجازت ہوگی، جو اساتذہ کی براہِ راست نگرانی میں چلائے جائیں گے۔
میئر زوہران ممدانی نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: “بچوں کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے اساتذہ اور انسانی تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیک انڈسٹری ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ابتدائی تعلیم میں AI ناگزیر ہے، لیکن ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ اسی لیے ہم ایک سالہ پابندی عائد کر کے اس کے اثرات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔”
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل اور چانسلر کمار ساموئلز نے بھی اس اقدام کو بچوں کے بہتر مستقبل اور تنقیدی سوچ کی نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا۔





