لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک میں پہلا سٹی وائیڈ ریشل ایکویٹی پلان، 2034 تک 8 بڑے اہداف مقرر

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: نیویارک شہر کے میئر زوہران کواَمی ممدانی (Zohran Kwame Mamdani) اور ‘میئرز آفس آف ایکویٹی اینڈ ریشل جسٹس’ (MOERJ) نے نیویارک کی تاریخ کے پہلے باضابطہ “سٹی وائیڈ ریشل ایکویٹی پلان” (Racial Equity Plan – REP) کے حتمی مسودے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ منصوبہ نیویارک میں نسلی اور معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے کے لیے ایک حکومتی فریم ورک پیش کرتا ہے۔

30 روزہ عوامی مشاورت کے دوران پانچوں اضلاع کے شہریوں اور 45 سے زائد شہری اداروں کی تجاویز کی روشنی میں اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ فریم ورک کے تحت سال 2034ء تک 8 بنیادی اور واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں.

2034ء تک کم لاگت اور قابلِ برداشت مکانات کی پیداوار میں ڈرامائی اضافہ کر کے کرائے کے بوجھ اور بے گھری میں نسلی تفریق کو ختم کرنا۔

ابتدائی تعلیم (Early Childhood Education): خواندگی، اعداد و شمار کی سمجھ اور سماجی ترقی میں نسلی فرق کو کم کرنا اور چائلڈ کیئر ورکرز کے روزگار کا معیار بہتر بنانا۔

پسماندہ اور سیاہ فام طلباء، مختلف زبانیں بولنے والوں اور معذور بچوں کے لیے تعلیم تک یکساں اور معیاری رسائی ممکن بنانا۔

بے روزگاری (Unemployment): 2026ء کی شرح کے مقابلے میں سیاہ فام، لاطینی اور ایشیائی امریکی شہریوں میں بے روزگاری میں نمایاں کمی لانا۔

انصاف کا نظام (Justice System): جیلوں کی آبادی کو کم کرنا جو کہ زیادہ تر اقلیتی برادریوں پر مشتمل ہے، اور چھوٹے علاقائی قید خانوں کو فعال کرنا۔

صحت (Health): سیاہ فام خواتین میں دورانِ حمل اور زچگی کے دوران اموات کی شرح کو کم کرنا۔

ٹرانسپورٹ (Transportation): محروم علاقوں میں بس سروس کو تیز، محفوظ اور بہترین بنانا۔

انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی (Connectivity): شہر کے پسماندہ علاقوں میں گھروں تک براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی رسائی بڑھانا۔

منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے میئر زوہران ممدانی نے کہا: “طویل عرصے سے حکومتیں ناہمواریوں کو تسلیم تو کرتی تھیں لیکن انہیں ختم کرنے کے لیے سائنسی اور واضح اہداف مقرر نہیں کرتی تھیں۔ یہ منصوبہ اس روایت کو بدل رہا ہے۔ یہ تمام وعدے مخصوص، قابلِ پیمائش اور عوامی ہیں۔ شہری ہم سے ان اہداف کی تکمیل کا حساب لینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔”