اوسلو: یورپ کے معمر ترین حکمران ناروے کے بادشاہ ہرالڈ پنجم (King Harald V) 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ اوسلو کے شاہی محل کے مطابق بادشاہ ہرالڈ کا انتقال اوسلو یونیورسٹی ہسپتال میں جمعہ کی صبح 6:35 بجے ہوا۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی ان کے بیٹے شہزادہ ہاکون نے بادشاہ ہاکون ہشتم (King Haakon VIII) کے طور پر سلطنت کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔
شاہی محل کے اعلان کے بعد ناروے کی حکومت نے قومی سوگ کا اعلان کیا، تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں کر دیے گئے اور گرجا گھروں میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔ 53 سالہ نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں اپنے والد کے انتقال کی باضابطہ اطلاع دی اور اپنا نعرہ “سب کچھ ناروے کے لیے” (Everything for Norway) منتخب کیا۔
بادشاہ ہرالڈ 1991 سے ناروے کے سربراہ مملکت تھے۔ وہ ہیمولیٹک اینیمیا (Haemolytic Anaemia) اور دیگر طبی مسائل کا شکار تھے تاہم انہوں نے زندگی بھر پارلیمنٹ سے وفاداری کا حلف نبھاتے ہوئے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
برطانوی بادشاہ چارلس، ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک، سویڈن کے بادشاہ کارل سولہویں گستاف اور یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لین سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
نئے بادشاہ کی اہلیہ میٹ ماریٹ (Mette-Marit) پر امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ماضی کے تعلقات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جبکہ ان کے پہلے شوہر سے بیٹے ماریئس بورگ (Marius Borg Høiby) کو سنگین جرائم کے جرم میں 4 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
بادشاہ ہرالڈ کو ناروے میں تنوع اور رواداری کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے 2016 کی ایک مشہور تقریر میں مسلمان، مسیحی اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو ناروے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔
نارویجین وزیر اعظم یوناس گاہرسٹور (Jonas Gahr Støre) نے بادشاہ ہرالڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ “بادشاہ ہرالڈ نے ناروے سے محبت کی اور پورا ناروے اپنے بادشاہ سے محبت کرتا تھا”۔ نیا بادشاہ جلد ہی پارلیمنٹ میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا۔




