لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

: ٹرمپ کاایران کےخلاف’معاشی جنگ’کااعلان: چین امریکی پابندیوں کےنشانہ پر،سفارتی خطرات میں اضافہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن/بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف وسیع معاشی مہم کے اعلان نے چین کو بھی امریکی دباؤ کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ چین، جو کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس کے تیل کی برآمدات کا بنیادی خریدار ہے، اب امریکی پابندیوں کا بڑا ہدف بن سکتا ہے۔

امریکی خزانے کے سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے چین سے مطالبات ماننے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے سے چین اپنی 50 فیصد توانائی حاصل کرتا ہے، لہٰذا خلیج میں امن اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی چین کے اپنے مفاد میں ہے۔

بیجنگ نے امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے زور دیا کہ پابندیاں اور دباؤ مسائل کا حل نہیں ہیں اور تمام فریقین کو سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

24 ستمبر 2026 کو بیجنگ کے صدر شی جن پنگ کے متوقع دورہٴ واشنگٹن سے قبل چین کے خلاف اتنے بڑے معاشی اقدامات امریکی سفارت کاری کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

چھ ماہ کی فوجی کارروائیوں اور کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی بدستور خطرناک بنی ہوئی ہے، جس سے عالمی اور چینی ایندھن کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے بڑے چینی اداروں اور مالیاتی نظام کو نشانہ نہیں بناتی، تو صرف پابندیوں کے ذریعے تہران پر مکمل دباؤ ڈالنا ممکن نظر نہیں آتا۔