ڈھاکہ: بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے کے درمیان طے پانے والے تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے (مکہ دفاعی معاہدے) میں شمولیت کے امکان پر مثبت رویہ ظاہر کیا ہے۔
بنگلہ دیشی خبر ایجنسی ‘بی ایس سی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے بتایا کہ حکومت اپنی “بنگلہ دیش فرسٹ” پالیسی کے تحت ایک متوازن خارجہ پالیسی پر گامزن ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اقتصادی و دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت غور کیا جا رہا ہے۔
ہمایوں کبیر کے مطابق بنگلہ دیش قومی مفادات، عالمی معیشت اور تجارت میں بدلتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں اپنے تعلقات کو استوار کر رہا ہے۔
بنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ معمول کی سفارتی سرگرمیوں، باہمی تجارت اور عوامی سطح (People-to-People) پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے جہاں اہم دفاعی و معاشی امور پر بات چیت کی توقع ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟ رواں ماہ مکہ المکرمہ میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس معاہدے کی تکنیکی مماثلت نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 سے دی تھی۔





