زیورخ (ویب ڈیسک): بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (FIFA) کے صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کے خلاف مختلف علاقائی باڈیز کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد لانے کی کوششوں کے بعد ایک بڑا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔
ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو فٹبال فیڈریشن (Fecofa) کے صدر اور انفینٹینو کے قریبی ساتھی ویرون موسینگو-اومبا (Véron Mosengo-Omba) نے جیانی انفینٹینو کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فیفا صدر کے لیے “گولی کھانے کو بھی تیار ہیں”۔
یورپی فٹبال باڈی (UEFA)، کنکاکاف (Concacaf) اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) کی جانب سے جیانی انفینٹینو کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رابطے تیز کر دیے گئے ہیں، جب کہ دوسری طرف فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر کیون لیمور (Kevin Lamour) کو انفینٹینو کے متنازع منصوبے کی مخالفت پر برطرف کر دیا گیا ہے۔
جیانی انفینٹینو نے امریکی بینک جے پی مارگن (JP Morgan) کے ساتھ مل کر فیفا ورلڈ کپ کے 21 فیصد کمرشل حقوق نجی سرمایہ کاروں کو بیچنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ فیفا کی ممبر ایسوسی ایشنز کو 10 ارب ڈالر سے زائد رقم تقسیم کی جا سکے۔
شدید مخالفت کے بعد انفینٹینو نے اپنا منصوبہ واپس لے لیا، تاہم ان کے مخالفین نے اب 211 ممبران میں سے 106 ووٹس حاصل کر کے ہنگامی اجلاس بلانے اور تحریکِ عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ویرون موسینگو-اومبا نے اعتراف کیا کہ نجی کمپنیوں کو ورلڈ کپ کے حقوق دینا ایک غلطی تھی، لیکن ان کا ماننا ہے کہ چونکہ منصوبہ واپس لے لیا گیا ہے اس لیے اب انفینٹینو کو نشانہ بنانا غلط ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ نجی کمپنیوں کے بجائے علاقائی کنفیڈریشنز کو ورلڈ کپ کے حصص خریدنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ غریب ممالک میں فٹبال کی ترقی کے لیے فنڈز حاصل ہو سکیں۔




