لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکہ میں پہلی بار29سےزائدریاستوں کامیٹا کےخلاف تاریخی مقدمہ،200بلین ڈالرکے ہرجانےکامطالبہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

کیلیفورنیا (ویب ڈیسک): امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی فیڈرل کورٹ میں سوشل میڈیا جائنٹ میٹاکے خلاف امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور بے مثال جیوری ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

29 سے زائد امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے یکجا ہو کر میٹا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر بچوں اور نوجوانوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنانے والے فیچرز ڈیزائن کیے جس سے ان کی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو شدید نقصان پہنچا۔

6 سے 8 ہفتوں تک جاری رہنے والے اس تاریخی مقدمے میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ (Mark Zuckerberg)، انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری (Adam Mosseri) اور وہسٹیل بلور (سابق ملازم) آرٹورو بیجار کی پیشی اور گواہی متوقع ہے۔

کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کی قیادت میں دائر 233 صفحات پر مشتمل اس دعوے میں میٹا پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں:

مدعی ریاستوں کا الزام ہے کہ میٹا نے ‘انفینیٹ اسکرولنگ’، مسلسل نوٹیفکیشنز، ‘لائک’ بٹنز اور فلٹرز جیسے فیچرز کے ذریعے بچوں کو ڈوپامائن اور ایڈکشن کا شکار بنایا، جس سے نوجوانوں میں انزائٹی، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریاں پھیلیں۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی نے 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا ان کے والدین کی اجازت کے بغیر جمع کیا اور محض مالی منافع بڑھانے کے لیے ان نقصانات کو چھپایا۔

جرم ثابت ہونے کی صورت میں میٹا پر 200 ارب ڈالر (200 Billion Dollars) تک کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے، جو کمپنی کی 2025ء کی کل سالانہ آمدنی کے برابر ہے۔ علاوہ ازیں، عدالت سے میٹا کے الگورتھم اور پروڈکٹ ڈیزائن کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

میٹا نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹارنی جنرلز بغیر کسی حقائق یا قانون کے غیر منطقی رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ عمر کی تصدیق اور ایپ کے استعمال کے وقت پر کنٹرول جیسے چیلنجز پوری انڈسٹری کا مسئلہ ہیں۔