لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

میئرزہران ممدانی کے’پیڈ-آ-تیر'(Pied-à-terre) ٹیکس کی منتقلی پرتنازع، سٹی کونسل کی ہنگامی سماعت طلب

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک):نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی (Zohran Mamdani) کے مہنگے اور دوسرے گھروں پر عائد کیے جانے والے ‘پیڈ-آ-تیر’ (Pied-à-terre) ٹیکس کے نفاذ کے طریقہ کار پر شدید تحفظات اور الجھن کے بعد نیویارک سٹی کونسل نے ایک اہم نگرانی (Oversight) سماعت کا انعقاد کیا ہے۔

ڈیپارٹمنٹ آف فنانس کی جانب سے غلط معلومات اور نوٹسز کے اجرا کے بعد پیدا ہونے والی الجھن اور عدالتی کیس کے باعث اس ٹیکس کے عمل کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

ٹیکس کے نفاذ کے دوران ہزاروں شہریوں کو بلاوجہ نوٹسز بھیجے گئے جس سے شدید الجھن پیدا ہوئی:

ڈیپارٹمنٹ آف فنانس نے تقریباً 17,000 جائداد کے مالکان کو براہ راست نوٹسز بھیجے، تاہم ویب سائٹ پر لاکھوں جائدادوں کی فہرست شائع کر دی گئی، جس سے عام شہریوں میں خوف پھیلا۔

نیویارک شہر کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فہرست میں شامل اکثریت پر یہ اضافی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

جن ہاؤس اونرز کو نوٹس ملا ہے اور وہ گھر ان کی بنیادی رہائش گاہ ہے، وہ 18 ستمبر تک استثنیٰ کی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔

عدالتی روک: معاملے کی سنگینی اور عوام میں بے چینی کے باعث عدالت نے ٹیکس کے نفاذ کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا، جس پر اب سٹی کونسل نے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے وضاحت طلب کی ہے۔