نیویارک: یونائیٹڈ ہیلتھ کیئر (UnitedHealthcare) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) برائن تھامپسن (Brian Thompson) کے سنسنی خیز قتل کے ملزم لوئیجی مانگیون (Luigi Mangione) نے جمعہ کے روز امریکی وفاقی عدالت میں اسٹاکنگ (Stalking) کے دو الزامات میں باقاعدہ طور پر اعترافِ جرم (Pleaded Guilty) کر لیا ہے۔
قیدیوں کے روایتی خاکی لباس میں ملبوس لوئیجی مانگیون نے خود امریکی ڈسٹرکٹ جج مارگریٹ گارنیٹ (Margaret Garnett) کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا “کمر کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے سالہا سال شدید تکلیف برداشت کرنے کے بعد… مجھے معلوم ہوا کہ یونائیٹڈ ہیلتھ نیویارک سٹی میں ایک انویسٹر کانفرنس منعقد کر رہی ہے۔ میں نے خود کو 50 ملین ڈالر کا سرمایہ کار ظاہر کر کے کمپنی کو ای میل کی اور کانفرنس کا درست مقام معلوم کیا۔ میں برائن تھامپسن کو قتل کرنے کی نیت سے نیویارک آیا اور میں نے ان کی پیٹھ میں گولی ماری۔ میں جانتا تھا کہ جو میں کر رہا ہوں وہ مکمل طور پر غیر قانونی تھا۔”
عدالت میں سماعت کے دوران مقتول برائن تھامپسن کی والدہ اور اہلیہ سمیت دیگر اہل خانہ بھی پہلی صف میں موجود تھے، جہاں ان کی اہلیہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔
جج مارگریٹ گارنیٹ نے مانگیون کا اعترافِ جرم قبول کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملزم اور وفاقی حکومت کے درمیان کوئی ڈیل یا معاہدہ (Plea Agreement) طے نہیں پایا ہے۔ جج نے ملزم سے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اعترافِ جرم کے بعد وہ ٹرائل کا اپنا حق کھو رہے ہیں اور انہیں عمر قید (Life Sentence) کی سزا سنائی جا سکتی ہے؟ جس پر مانگیون نے “جی ہاں” میں جواب دیا۔
عدالت کی جانب سے لوئیجی مانگیون کی سزا کا فیصلہ (Sentencing) 18 دسمبر کو سنایا جائے گا۔
یہ اعترافِ جرم نیویارک کی ریاستی عدالت (State Court) میں مانگیون پر قائم مرڈر کیس کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے، جہاں اس کا ٹرائل 8 ستمبر سے شروع ہونا ہے۔
اگرچہ وکلائے صفائی نے ڈبل جیوپارڈی (Double Jeopardy) کے تحت سیکنڈ ڈگری مرڈر کے چارجز ختم کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی کا دفتر ٹرائل آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، کیونکہ ان کے بقول اسٹاکنگ اور مرڈر دو مختلف نوعیت کے جرائم ہیں۔
برائن تھامپسن کو 4 دسمبر 2024 کو مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد مانگیون کو 5 دن کی تلاش کے بعد پنسلوانیا سے گرفتار کیا گیا تھا۔





