نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے میئر زوہران مامدانی اور ریاست نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل (Kathy Hochul) نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی امیگریشن حکام (ICE) کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال اور حد سے تجاوز (Overreach) برداشت نہیں کیا جائے گا۔
نیویارک کے ان اہم رہنماؤں نے اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز (Letitia James) کے ہمراہ ایک مشترکہ اعلان میں نیویارک ریاست میں آئی سی ای (ICE) کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور سخت اقدامات کے جواب میں نئے ریاستی و بلدیاتی اقدامات متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیویارک میں یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب گورنر کیتھی ہوچل نے 2027 کے ریاستی بجٹ میں:
آئی سی ای ایجنٹس پر ماسک پہننے پر پابندی کی منظوری دی۔
مقامی پولیس اور وفاقی امیگریشن حکام کے تعاون کو محدود کر دیا۔
اس قانون سازی کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بارڈر زار (Border Czar) ٹام ہومن (Tom Homan) نے نیویارک میں اضافی ICE ایجنٹس بھیجنے (Surge) کی دھمکی دی تھی۔ جبکہ امریکی محکمہ انصاف (Department of Justice) نے نیویارک کی سنکچوئری (Sanctuary) قانون سازی کے خلاف مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
میئر زوہران مامدانی اور گورنر کیتھی ہوچل کا کہنا ہے کہ نیویارک اپنے تارکینِ وطن شہریوں کے تحفظ سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور وفاقی حکومت کی زبردستی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق پی آئی ایکس 11 نیوز (PIX11 News) اس اہم پریس کانفرنس اور نئے اقدامات کے اعلان کو براہِ راست (Live) نشر کر رہا ہے۔




