لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

خلا میں بےقابوہونےوالااسپیس ایکس کے’فالکن 9’راکٹ کاحصہ چاندسےٹکراگیا،گردوغبارکابڑابادل بن گیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے ایک ناکارہ اور بے قابو راکٹ کا حصہ بدھ کی صبح انتہائی تیز رفتاری سے چاند کی سطح سے ٹکرا گیا ہے۔ اس طاقتور تصادم کے نتیجے میں چاند کی سطح سے گرد و غبار کا ایک بڑا بادل فضا میں بلند ہوا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، اسکول بس کے برابر اور 4 ٹن وزنی یہ حصہ ’فالکن 9‘ (Falcon 9) راکٹ کا دوسرا مرحلہ تھا، جس نے جنوری 2025ء میں ’فائر فلائی ایرو اسپیس‘ کے قمری لینڈر کو چاند کی جانب روانہ کیا تھا۔ مشن کی تکمیل کے بعد یہ حصہ ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے خلا میں بے قابو گردش کرتا رہا اور بالآخر چاند کی کششِ ثقل کے باعث اس کی سطح سے جا ٹکرایا۔

یہ واقعہ امریکی وقت کے مطابق بدھ کو صبح 2 بج کر 35 منٹ (0635 GMT) پر پیش آیا، جب راکٹ کا حصہ تقریباً 8,690 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سنسنی خیز رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرایا۔

ٹیلی اسکوپ سے مشاہدہ: چلی میں واقع یورپی جنوبی رصدگاہ (European Southern Observatory) کی ’لارج ٹیلی اسکوپ‘ نے تصادم کے بعد ابھرنے والی روشنی اور کیمیائی اثرات کا جائزہ لیا۔

سوڈیم اور لیتھیم کے اثرات: ماہرینِ فلکیات نے تصادم کے بعد 5 سے 10 منٹ تک اٹھنے والے گرد و غبار کے بادل میں سوڈیم اور لیتھیم گیس کی موجودگی کے شواہد ریکارڈ کیے۔ ابتدائی تجزیے کے مطابق سوڈیم چاند کی مٹی سے خارج ہوا جبکہ لیتھیم راکٹ کے ملبے سے نکلنے کا امکان ہے۔

ماہرِ فلکیات کارل شمٹ کے مطابق یہ تصادم چاند کے مغربی کنارے پر واقع ’آئن اسٹائن کریٹر‘ (Einstein Crater) کے قریب ہوا۔

اگرچہ اس تصادم سے کسی انسان یا فعال مشن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ماہرینِ فلکیات بل گرے (بلڈر آف پروجیکٹ پلوٹو) اور ناسا کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ خلا میں بڑھتے ہوئے انسانی ملبے (Space Debris) کو ٹھکانہ لگانے کے لیے فوری طور پر جامع حکمتِ عملی بنانی ہوگی۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا اپنے اربوں ڈالر کے ’آرٹیمس‘ (Artemis) پروگرام کے تحت اس دہائی کے اختتام تک چاند پر ایک مستقل اڈہ قائم کرنے اور خلا بازوں کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ناسا اور اسپیس ایکس اب مستقبل میں ایسے بے قابو واقعات اور خطرات کو روکنے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مارچ 2022ء میں ایک چینی راکٹ کا حصہ چاند سے ٹکرایا تھا، جبکہ 2009ء میں ناسا نے پانی کی برف تلاش کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک راکٹ چاند سے ٹکرایا تھا۔