نیویارک (ویب ڈیسک): ایک امریکی وفاقی جج نے نیویارک اسٹیٹ کے اس قانون کے خلاف ابتدائی حکمِ امتناعی (Preliminary Injunction) جاری کر دیا ہے جس کے تحت وفاقی امیگریشن ایجنٹس پر ماسک پہننے کی پابندی عائد کی گئی تھی اور انہیں شناختی کارڈ نمایاں کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔
ناردرن ڈسٹرکٹ آف نیویارک کی جج مے ڈی اگوسٹینو (Judge Mae D’Agostino) نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ریاست نیویارک کا فیس کورنگ اور شناختی ایکٹ براہِ راست وفاقی حکام اور افسران کے دائرہ اختیار کو نشانہ بناتا ہے، جو کہ امریکی آئین کے سپریماسی کلاز (Supremacy Clause) کی واضح خلاف ورزی ہے۔
جج مے ڈی اگوسٹینو نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ “مسلمہ قانون یہ طے کرتا ہے کہ وفاقی امیگریشن قوانین کے نفاذ کی پالیسیاں بنانا وفاقی حکومت کا کام ہے، نہ کہ کسی بھی امریکی ریاست کا۔”
تاہم، عدالت نے وفاقی حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں نیویارک کی مقامی پولیس کو آئی سی ای (ICE) کے ساتھ امیگریشن معاہدوں (287(g) Agreements) پر پابندی والے الگ قانون کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
فیصلے کے بعد نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل (Kathy Hochul) اور اٹارنی جنرل لیٹیا جیمز (Letitia James) نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا:
“جیسا کہ ہم نے شروع سے کہا ہے، 287(g) معاہدوں پر نیویارک کی پابندی بالکل قانونی ہے اور یہ ہماری کمیونٹیز کو محفوظ رکھے گی۔ مقامی پولیس کا فوکس مقامی امور پر ہونا چاہیے اور نیویارک کے ٹیکس دہندگان کو آئی سی ای کے ساتھ کسی تعاون کا خرچہ نہیں اٹھانا چاہیے۔”
“اگرچہ عدالت نے ماسک کی پابندی کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے، لیکن ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ چہرے چھپانے والے ایجنٹس نیویارک کو محفوظ نہیں بناتے اور ہمارے دفاتر اس فیصلے کے خلاف تمام قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔”





