لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ایئرپورٹس پرسادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کے چھاپے،داخلی پروازوں سےگرفتاریوں میں اضافہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / لاس اینجلس (ویب ڈیسک): امریکہ کے مختلف ایئرپورٹس پر امیگریشن حکام (ICE) کی جانب سے کارروائیاں اور گرفتاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس امیگریشن ایجنٹس کو ایئرپورٹ ٹرمینلز اور باؤرڈنگ گیٹس کے قریب سے مسافروں کو تحویل میں لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

ان کارروائیوں کے بعد تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیم ’کولیشن فار ہیومین امیگرنٹ رائٹس‘ (CHIRLA) نے ایک اہم سفری ایڈوائزری (Travel Advisory) جاری کی ہے، جس میں گرین کارڈ یا اسائلم (پناہ) کی درخواستیں زیرِ التواء رکھنے والے تمام تارکینِ وطن کو امریکہ کے اندر بھی داخلی پروازوں (Domestic Flights) سے قبل امیگریشن وکیل سے مشورہ کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کی یہ کارروائیاں ملک بھر کے ایئرپورٹس پر کی جا رہی ہیں، جن میں خاص طور پر:

لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ (LAX)
سان فرانسسکو انٹرنیشنل ایئرپورٹ (SFO)
ڈینور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DEN) شامل ہیں۔

’شرلا‘ (CHIRLA) کے وکیل میتھیو توویاما (Matthew Toyama) کے مطابق صرف ایک ہفتے کے اندر کیلیفورنیا کے ایئرپورٹس سے 10 مسافروں کو آئس (ICE) ایجنٹس نے گرفتار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسافروں کو بین الاقوامی پروازوں کے بجائے امریکہ کے اندر ہی ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والی داخلی پروازوں کے بورڈنگ گیٹس پر روکا جا رہا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ ڈینور ایئرپورٹ پر پیش آیا جہاں آکلینڈ کی رہائشی چنتل مورالس روزاس کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی دوست کے مطابق چنتل کا J-1 ویزا ختم ہو چکا تھا لیکن انہوں نے اپنے قانونی قیام میں توسیع کی درخواست پہلے سے جمع کروا رکھی تھی۔

حالیہ گرفتاریوں پر امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم کوئی بھی شخص ہوا بازی کا استعمال نہ کر سکے، الا یہ کہ وہ خود اپنے ملک واپس جانے (Self-deport) کے لیے پرواز کر رہا ہو۔

امیگریشن وکلاء اور تنظیموں نے تمام تارکینِ وطن بشمول وہ افراد جن کے پاس ورک پرمٹ موجود ہے یا جن کا کیس عدالتوں میں زیرِ التواء ہے—کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے اندر کسی بھی فضائی سفر کا ٹکٹ بک کرانے سے پہلے اپنے وکیل سے قانونی رہنمائی لازمی حاصل کریں۔