لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کاایران پربڑاحملہ منسوخ کرنےکااعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویک اینڈ پر ایران کے خلاف طے شدہ ایک بڑے فوجی حملے کو مؤخر کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس حملے کی مستقل منسوخی فوری اور جامع معاہدے کے طے پانے سے مشروط ہوگی۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی سفارتی درخواستوں اور اپیلوں کے بعد حملہ فی الوقت مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے پر اسرائیل نے بھی اتفاق کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جاتا ہے تو فوجی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مجوزہ معاہدے کے لیے دو اہم ترین شرائط بھی پیش کیں۔ ان شرائط میں

تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولنا۔

جوہری پروگرام: ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تمام تر خدشات کا مکمل خاتمہ شامل ہیں

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ”امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے۔ ایران کے خلاف شدید اقدام اٹھانے کا مکمل اختیار ہمارے پاس محفوظ ہے، لیکن ہم معاہدے کو موقع دے رہے ہیں۔“

اس سے قبل امریکی صدر نے ایران کے اردن پر کیے گئے حملوں کے جواب میں شدید جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کے حامی جنگجوؤں کے خلاف بھی سخت اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی دفاعی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا میزائل و ڈرون صلاحیت: ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایران کے 159 جہاز سمندر کی تہہ میں ڈوب چکے ہیں جبکہ تقریباً 200 جہاز یا بحری فیریز تباہ کی جا چکی ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس تنازع میں امریکہ کو مکمل برتری حاصل ہے، تاہم ایران کے پاس اب بھی کچھ بچے کچھے میزائل اور ڈرونز موجود ہیں، جس کے پیش نظر امریکی افواج الرٹ ہیں۔