لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

نیویارک کی تاریخی’فلیٹ آئرن‘عمارت اب ارب پتیوں کامسکن: 58.5 ملین ڈالرتک کےپرتعیش اپارٹمنٹس تیار

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک شہر کی سب سے مشہور اور تاریخی عمارتوں میں سے ایک ”فلیٹ آئرن بلڈنگ“ (Flatiron Building) اب اپنے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ 1902 میں تعمیر کی جانے والی یہ تین کونوں والی تاریخی عمارت، جو ایک زمانے میں تجارتی دفاتر کے لیے استعمال ہوتی تھی، اب انتہائی پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس میں تبدیل کر دی گئی ہے جہاں ایک اپارٹمنٹ کی قیمت 58.5 ملین ڈالرز (تقریباً 16 ارب پاکستانی روپے) تک پہنچ چکی ہے۔

سات سال تک اسکافولڈنگ (سائیبان اور ڈھانچوں) کے پیچھے چھپے رہنے کے بعد، اس بیوکس-آرٹس (Beaux-Arts) طرزِ تعمیر کی حامل عمارت کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور رواں سال کے آخر میں یہ دنیا کے امیر ترین افراد کے لیے کھول دی جائے گی۔

عمارت میں کل 36 پرتعیش اپارٹمنٹس بنائے گئے ہیں، جن میں سے کچھ پورے۔ کے پورے فلور پر محیط ہیں۔

تیسری منزل پر واقع 3 بیڈ رومز کا اپارٹمنٹ ہے جو تقریباً 10.95 ملین ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

فلیگ شپ (سب سے مہنگا) اپارٹمنٹ: سب سے اوپر والی منزل پر واقع 5 بیڈ رومز اور 5 باتھ رومز پر مشتمل اپارٹمنٹ ہے، جو 58.5 ملین ڈالر میں معاہدے کے تحت خریدا جا رہا ہے۔ اس میں ایک سونا (Sauna)، دو ڈریسنگ رومز اور 72 فٹ کا ‘گریٹ روم’ شامل ہے۔

عمارت میں رہائش پذیر افراد کے لیے سوئمنگ پول، گیمز روم (بلیرڈز ٹیبل کے ساتھ) اور ایک شاندار ڈبل ہائٹ لابی بھی بنائی گئی ہے۔ ڈیزائننگ کے دوران عمارت کے اندرونی تاریخی سٹیل کے فریم (Steel Skeleton) کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

مشہور آرکیٹیکٹ ڈینیئل برنہم (Daniel Burnham) کی ڈیزائن کردہ اس عمارت کو استری (Iron) سے مشابہت کی وجہ سے ‘فلیٹ آئرن’ کہا جاتا ہے۔ جب یہ تعمیر ہوئی تو اسے نیویارک کی سب سے اونچی عمارتوں میں شمار کیا جاتا تھا، لیکن اس وقت لوگوں کو خوف تھا کہ یہ اتنی پتلی ہے کہ تیز ہوا سے گر جائے گی۔

اس عمارت کے مخصوص ڈیزائن کی وجہ سے گلی میں تیز ہوا کا بگولا بنتا تھا جسے ”فلیٹ آئرن بریز“ (Flatiron Breeze) کہا جاتا تھا۔ اس ہوا کی وجہ سے خواتین کے اسکرٹس ہوا میں اڑ جاتے تھے جسے دیکھنے کے لیے اس زمانے میں مردوں کے گروہ وہاں جمع ہوا کرتے تھے۔ 1900ء کی دہائی میں اسی تیز ہوا کے باعث ایک 14 سالہ قاصد لڑکا جون میک ٹیگرٹ سڑک کے درمیان جا گرا اور گاڑی کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گیا تھا۔

تاہم، عمارت نے تمام خدشات کو غلط ثابت کیا اور 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے طوفانوں میں بھی مضبوطی سے کھڑی رہی۔ عمارت کی مالکانہ کمپنی کے منیجنگ پارٹنر ڈینیئل بروڈسکی (Daniel Brodsky) کا کہنا ہے کہ ایسی تاریخی عمارت کی بحالی ایک چیلنج تھی، لیکن اس کا منفرد انداز اسے بے مثال بناتا ہے۔