جنیوا / لندن (ویب ڈیسک): عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) نے الٹرا پروسیسڈ فوڈ (UPF) اور جنک فوڈ بنانے والی دنیا کی بڑی کمپنیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ موٹاپے کے عالمی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں صحت بخش غذا کو فروغ دینے والی حکومتوں پر مقدمات درج کر کے عوام کی صحت اور ملکی معیشتوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہیں۔
انگلش اخبار ‘دی گارڈین’، ‘لائٹ ہاؤس رپورٹس’ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ 2010 سے 2025 کے درمیان میکسیکو، کولمبیا، برازیل، امریکہ اور برطانیہ میں حکومتوں کے خلاف 235 عدالت کیسز درج کیے گئے۔ یہ مقدمات جنک فوڈ پر ٹیکس، پیکٹ پر تنبیہی لیبلز (Warning Labels) اور اشتہار بازی پر پابندیوں جیسے عوامی صحت کے قوانین کو روکنے یا کمزور کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
تحقیقات کے مطابق اگرچہ 75 فیصد کیسز میں فوڈ کمپنیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان قانونی جنگوں نے عوامی صحت سے متعلق قوانین کے نفاذ میں سالہا سال کی تاخیر کر دی۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم کا کہنا تھا ”جب کسی پروڈکٹ کے نقصان اور منافع کا آپس میں تعلق ہو، تو انڈسٹری کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے: شک و شبہات پیدا کرنا اور قوانین کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا۔ یہ قانونی جنگیں مجموعی طور پر 600 سال سے زائد کا وقت ضائع کر چکی ہیں اور اس تاخیر کی وجہ سے حکومتوں کو اربوں ڈالرز کے اضافی طبی اور قانونی اخراجات برداشت کرنے پڑے ہیں۔“
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ جن مقدمات میں مدعی (Plaintiff) کی شناخت ہو سکی، ان میں سے 38 فیصد کیسز دنیا کی 8 بڑی کمپنیوں نے دائر کیے تھے، جن میں:
کوکا کولا (Coca-Cola)
پیپسی کو (PepsiCo)
مونڈلیز (Mondelēz)
کیلوگز (Kellogg’s)
ڈینون (Danone)
فیریرو (Ferrero)
زیگنکس (Xignux)
ہارٹ لینڈ فوڈ پروڈکٹس گروپ (Heartland Food Products Group) شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 1 ارب افراد (ہر 7 میں سے 1 شخص) موٹاپے کا شکار ہیں، اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز کا استعمال دل کی بیماریوں، ٹائپ-2 ذیابیطس اور کینسر کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ واقعی موٹاپے کا بحران ختم کرنا چاہتی ہیں تو وہ حکومتوں کے خلاف عدالتوں میں دائر کیسز فوری طور پر واپس لیں۔





