لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

فیفامیں شدیدبحران:ورلڈکپ کاحصہ بیچنےکی تجویزپر جیانی انفینٹینو کےسینئرمشیرکارلوس کورڈیروکااستعفیٰ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

زیورخ / جوہانسبرگ : انٹرنیشنل فیفا (FIFA) کے صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کی قیادت کو اس وقت اب تک کے سب سے بڑے سیاسی اور انتظامی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق اور اسٹیک (حصہ) نجی سرمائے کو بیچنے کی متنازعہ تجویز کے خلاف ان کے سینئر ترین مشیر کارلوس کورڈیرو (Carlos Cordeiro) نے بھی احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

امریکی فٹبال فیڈریشن کے سابق سربراہ اور وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کے مشیر کارلوس کورڈیرو 2021 سے فیفا میں انفینٹینو کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے استعفے میں کورڈیرو نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ”میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا جبکہ فیفا ورلڈ کپ میں اپنا اسٹیک بیچنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ فیفا کے ممبران، فٹبال اور اس کھیل کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی برا اور نقصان دہ سودا ہے۔ فیفا کے پاس پہلے سے اربوں ڈالرز کے مالیاتی ذخائر موجود ہیں اور اس کی کوئی جائز دلیل نہیں ہے۔“

استعفے کے ساتھ ہی کورڈیرو نے فیفا کی انتظامی شفافیت پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ”یہ معاہدہ کیوں؟ اس وقت کیوں؟ اس عمل میں کس کا فائدہ ہے اور کیا اس کے لیے کوئی شفاف یا مسابقتی عمل اپنایا گیا؟“

اسی دوران فیفا کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) کیون لیمور (Kevin Lamour) نے بھی صدر انفینٹینو پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ”ایک شخص کا نجی پروجیکٹ“ قرار دیا اور عالمی فٹبال کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ انفینٹینو کے طریقہ کار پر درست سوالات اٹھائیں۔

اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب یورپ کی فٹبال ایسوسی ایشنز (UEFA) نے فیفا کے قائم کردہ نئے کمرشل ادارے Fifa Forward Enterprise (FFE) کے خلاف آئندہ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی۔

یورپ کے بعد ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC) اور کانکاکیف (CONCACAF) نے بھی یوفا کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فیفا کے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے۔ فیفا کے کل 211 ممبران میں سے ان تینوں بلاکس کے 143 ممبران شامل ہیں، جس کے بعد جیانی انفینٹینو کے لیے اس تجویز کی منظوری کا کوئی امکان باقی نہیں رہا اور ان کی صدارت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کا مقصد فٹبال کو فروخت کرنا نہیں بلکہ تمام ممبر ایسوسی ایشنز کو بااختیار بنانا ہے۔ فیفا نے میڈیا پر غلط رپورٹس پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری عمل کے تحت تمام ممبران کی رائے لیں گے۔ تاہم، اگر فیفا نے یہ تجویز واپس نہ لی تو اگلے ماہ پولینڈ میں ہونے والے انڈر 20 ویمنز ورلڈ کپ سے بائیکاٹ کا باقاعدہ آغاز ہو سکتا ہے۔