گلگت / کٹھمنڈو (ویب ڈیسک): پاکستان کی 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹی بروڈ پیک (Broad Peak) پر کوہ پیمائی کے دوران ایک المناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں عالمی شہرت یافتہ نیپالی کوہ پیما اور برطانوی سپیشل فورسز کے سابق اہلکار نرمل پرجا (Nims Dai) سمیت 10 کوہ پیما ایک شدید برفانی تودے (Avalanche) کی زد میں آ کر لاپتہ ہو گئے۔
ریسکیو حکام اور الپائن کلب آف پاکستان (ACP) کے مطابق شدید خراب موسم کے باوجود تلاش کا کام جاری ہے اور اب تک 4 لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں نیپالی کوہ پیما پور بہادر گرونگ اور عمان کی پہلی خاتون ایورسٹ فلاح کنندہ نضیرہ الحارثی (Nadhira Alharthy) کی شناخت ہو چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ کیمپ 2 اور کیمپ 3 کے درمیان تقریباً 6,579 میٹر کی بلندی پر پیش آیا۔ کوہ پیماؤں کے پاس موجود جی پی ایس (GPS) ٹریکرز نے اچانک بلندی میں شدید کمی دکھائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری ٹیم برفانی تودے کے ساتھ نیچے کی طرف بہہ گئی۔
امریکی کوہ پیما مالوری گیس (Mallory Geis) کا ٹریکر اچانک 543 میٹر نیچے منتقل ہوا۔
عمانی کوہ پیما نضیرہ الحارثی کا ٹریکر 1,651 میٹر نیچے گرا۔
نرمل پرجا کی کمپنی ‘ایلیٹ ایکسپڈ’ (Elite Exped) کے بزنس پارٹنر اور نیپالی پارلیمنٹ کے رکن منگما گیابو شیرپا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایسا لگا کہ نرمل پرجا بھی تودے کے ساتھ بہہ گئے ہیں، تاہم بعد میں ان کے ٹریکر کی لوکیشن میں دوبارہ تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک پاکستانی اور نیپالی کوہ پیما پہاڑ کے دامن میں اس جگہ کی طرف پیدل روانہ ہوئے ہیں جہاں ٹریکر کا نیا سگنل موصول ہوا ہے، تاہم تاحال نرمل پرجا کی حالت کے بارے میں کوئی حتمی خبر سامنے نہیں آئی۔
43 سالہ نرمل پرجا نے 2019 میں محض 6 ماہ کے قلیل عرصے میں دنیا کی تمام 14 اٹھار مٹیاری (8,000 میٹر سے بلند) چوٹیاں سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنایا تھا، جس پر نیٹ فلکس (Netflix) نے ایک مشہور ڈاکومنٹری بھی بنائی تھی۔ وہ کے ٹو (K2) پر سردیوں میں پہلی کامیاب سر کرنے والی ٹیم کے سربراہ بھی تھے۔
اس مہم کے دوران نرمل پرجا بغیر آکسیجن دنیا کی تمام 14 چوٹیاں دوسری بار سر کرنے کا ریکارڈ بنانے کے قریب تھے۔ انہوں نے روانگی سے قبل سوشل میڈیا پر لکھا تھا ”بروڈ پیک! میں صرف اوپر جانے اور محفوظ واپسی کا راستہ مانگتا ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو آسان نہیں سمجھتا۔“
گلگت بلتستان پولیس اور الپائن کلب کے مطابق فوج کے ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کی مدد سے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور تمام لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تمام وسائل بکارِ لائے جا رہے ہیں۔





