لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

امریکا,ایران عارضی جنگ بندی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید کمی، برینٹ کروڈ 88 ڈالرسےنیچےآ گیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کے عارضی طور پر رکنے اور سفارتی مذاکرات کی امید پیدا ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ تیل کے تاجروں کی جانب سے جاری کشیدگی میں کمی کی توقعات کے بعد خام تیل کی قیمتیں یکلخت نیچے آ گئی ہیں۔

بین الاقوامی معپيار ‘برینٹ کروڈ’ (Brent Crude) کی قیمت پیر کے روز ابتدائی طور پر 9 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 88 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بحیرہ احمر میں ایران کے حامی حوثیوں کی جانب سے سعودی تیل کے ٹینکرز پر حملے کے بعد خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی تھیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ امریکا اور ایران کے درمیان “اچھے مذاکرات” جاری ہیں، تیل کی قیمتوں میں بہتری کی کوششیں دم توڑ گئیں اور برینٹ کی قیمت مجموعی طور پر تقریباً 8 فیصد نیچے رہی۔

13 دنوں کی مسلسل لڑائی کے بعد امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں روکنے پر تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز (Mike Waltz) نےصحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے فی الحال حملے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ایران نے بھی جواباً اپنے حملے روکنے کی تصدیق کی ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی عسکری حکام نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بمباری کی مہم اپنی افادیت کی حد کو پہنچ چکی ہے اور گولہ بارود کا ذخیرہ بھی کم ہو رہا ہے۔

ان سفارتی کوششوں نے یہ امید پیدا کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی کم ہو سکتی ہے، جس نے فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل کو شدید متاثر کر رکھا تھا۔

تاہم، مارکیٹ ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں نے تیل کی قیمتوں میں اس عارضی کمی کو شک کی نظر سے دیکھا ہے۔ ایس ای بی ریسرچ کے تجزیہ کار اولے ہوال بائے (Ole Hvalbye) کا کہنا تھا کہ ہم مارچ سے اب تک کئی بار ایسی صورتحال دیکھ چکے ہیں، لیکن جب تک ٹھوس نتائج سامنے نہیں آتے، یہ ریلیف عارضی ثابت ہوتا ہے۔ پی وی ایم (PVM) کے تجزیہ کار جان ایونز کا کہنا تھا کہ صرف حملوں کا رکنا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ علاقے سے تیل کی ترسیل فوراً بحال ہو جائے گی، جب تک کہ تیل کی طلب میں کوئی بڑی کمی یا مستقل معاہدہ نہ ہو جائے۔