واشنگٹن: مسلسل 13 دن کی شدید بمباری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فضائی حملے عارضی طور پر روک کر سفارت کاری کو موقع دینے کا اعلان تو کیا ہے، لیکن 5 ماہ سے جاری اس جنگ میں اب امریکی انتظامیہ خود ایک بند گلی (No-Win Situation) میں پھنستی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن “لاکڈ اینڈ لوڈڈ” (مکمل تیار) ہے، تاہم عسکری ماہرین اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق محض ہوائی حملوں سے تہران کو اس کے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹانا ممکن نظر نہیں آرہا۔
ایران اور عمان کے درمیان نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات کی خبریں سامنے آئی ہیں، لیکن ایران اپنے اہم ترین مطالبے یعنی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے بحری جہاز رانی پر کنٹرول اور ریگولیشن کے حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
عوام میں شدید غیر مقبول اقدام.امریکی جانی نقصان کا شدید خطرہ۔ بجلی گھروں اور ٹرانسپورٹ پر حملوں سے ایرانی شہریوں کی مشکلات بڑھیں گی، لیکن سی آئی اے اور ڈی آئی اے کے مطابق اس سے بھی تہران کا موقف تبدیل ہونا مشکل ہے۔
بحری و معاشی ناکہ بندی میں توسیع:طویل مدتی اور معاشی رسک.پاسدارانِ انقلاب کی مالی امداد روکنے کے لیے مکمل ناکہ بندی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ ردِعمل میں ایران تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر کے عالمی تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
سیاسی شکست کا تاثر.آبنائے ہرمز پر تہران کو ٹیکس یا کنٹرول کی اجازت دینا امریکہ کی سفارتی شکست سمجھا جائے گا، جس سے واشنگٹن کے سخت گیر (Hawks) شدید برہم ہوں گے۔
سی این این کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندرونی اجلاسوں میں نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین (Dan Caine) نے جنگ کی شدت بڑھانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈین کین نے امریکہ کے اسلحہ ذخائر (Munitions Stockpiles) کی کمی کی طرف اشارہ کیا ہے۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں اچھال کے باعث امریکہ میں پیٹرول مہنگا ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغی بحیرہ احمر کا متبادل روٹ بھی بلاک کر رہے ہیں۔
نومبر مڈ ٹرم الیکشن: نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں، اور CBS نیوز کے حالیہ سروے کے مطابق 76 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ انتظامیہ کی توقعات سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے موقف اپنایا ہے کہ امریکی دباؤ کی وجہ سے “ایران سفارتی، معاشی اور عسکری طور پر تنہا ہو چکا ہے”، لیکن سچائی یہ ہے کہ 5 ماہ بعد بھی امریکہ کے پاس اس دلدل سے نکلنے کا کوئی آسان اور واضح راستہ موجود نہیں ہے۔





